.

عراقی فورسز کا موصل کے ساحل کے بائیں حصے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فورسز نے موصل کو دوحصوں میں تقسیم کرنے والے دریا الخوصر کے بائیں ساحلی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔عراق کی انسداد دہشت گردی فورسز کی اسپیشل آپریشن کمانڈ کے مشیر میجر جنرل حیدر العبیدی نے اتوار کو سرکاری فورسز کے دریائے الخوصر کے بائیں کنارے پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔

انھوں نے عراقی فورسز کی شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا اعادہ کیا ہے کیونکہ ان کے بہ قول داعش کے جنگجو انھیں کار بموں کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔

جنرل حیدر العبیدی نے کہا ہے کہ داعش نے فوجی لیڈروں کو ہدف بنانے کے لیے کھلونا ڈرون بھی تیار کیے تھے لیکن ان کی ان کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ موصل کے مشرق میں داعش کی ڈرون تیار کرنے والی دو فیکٹریاں پکڑی گئی ہیں۔

درایں اثناء عراق کی وفاقی پولیس کی کمان نے اطلاع دی ہے کہ اس نے موصل کے جنوب میں اور قصبے العذبہ کے شمال میں داعش کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

عراقی فوج نے موصل کے شمال میں واقع چار قصبوں: قرۃ تبۃ ، کوری غریبان ، الدراویش اور ابو جر بوعہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے بعد سرکاری عمارتوں پر عراقی پرچم لہرا دیا ہے۔