.

یمنی باغیوں نے دسیوں عام شہری یرغمال بنا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن سے مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ ایران نواز حوثی باغیوں نے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دارالحکومت صنعاء اور البیضاء گورنری سے دسیوں عام شہریوں کو اغواء کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کے مقامی قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے گذشتہ دو ایام میں ملک کے وسطی شہر البیضاء، ناعم ڈاریکٹوریٹ کے علاقے طیاب اور دارالحکومت صنعاء سے 60 سے زاید عام شہریوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ اغواء کیے گئے شہریوں میں طلباء اور معمر شہری بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق گذشتہ روز حوثی ملیشیا نے ناعم کے نواحی علاقے طیاب پر دھاوا بولا اور گھروں میں تلاشی کی کارروائی کے دوران 25 طلباء اور پانچ اساتذہ سمیت 30 شہریوں کو اغواء کرلیا۔ حراست میں لیے گئے تمام شہریوں کو نامعلوم مقامات پر لے جایا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طیاب میں عام شہریوں کا اغواء ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب عوامی مزاحمتی فورسز علاقے میں پیش قدمی کررہی ہیں۔ حکومت نواز فورسز نے تازہ کارروائیوں کے دوران طیاب، جبل مہر اور کئی دوسرے قصبوں کے بیشتر مقامات باغیوں سے چھڑا لیے ہیں۔ تازہ آپریشن میں طیاب میں 10 حوثی باغی ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

ادھر دارالحکومت صنعاء میں مقامی شہریوں نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے عام شہریوں کے خلاف ایک نیا کریک ڈاؤن شروع کیا ہے اور گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں میں درجنوں افراد کو اغواء کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغی شہریوں کے موبائل فون کی چھان بین کے بعد شہریوں کو اغواء کررہے ہیں۔

عینی شاہدین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حوثی باغیوں نے نماز فجر کے وقت دارالحکومت صنعاء کی ایک مسجد پر دھاوا بولا اور متعدد نمازیوں کو اغواء کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ باغیوں نے ایک مغوی نمازی کے موبائل کی تلاشی لی جس میں مزاحمتی فورسز کی تصاویر تھیں اور اس کے علاوہ موبائل سے باغیوں کے خلاف مزاحمت کے لیے پیغامات ارسال کیے تھے۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’’ہیومن رائٹس واچ‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حوثی ملیشیا اپنے زیرتسلط علاقوں سے معصوم شہریوں کو اغواء کے بعد انہیں حراستی مراکز میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ سال میں حوثی باغی 10 ہزار عام شہریوں کو اغواء کے بعد اذیتوں کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ حال ہی میں حوثی باغیوں کے حراستی مراکز میں دو شہری وحشیانہ تشدد سے شہید ہوچکے ہیں۔ حراستی مراکزمیں بڑی عمر کے شہریوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے ساتھ بھی مجرمانہ بدسلوکی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔