.

داعش اور حزب اللہ ایک سکے کے دو رُخ!

ایک دوسرے کے نظریاتی دشمنوں میں گہری مماثلتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور شام وعراق میں سرگرم ’داعش‘ اگرچہ ایک دوسرے کے خلاف بھی نبرد آزما ہیں مگر دونوں دہشت گرد تنظیموں کے درمیان کئی ایک گہری مماثلتیں بھی پائی جاتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے داعش اور حزب اللہ کے درمیان ان مشترکہ قدروں کی نشاندہی کی ہے جو ان دونوں شدت پسند گروپوں کا خاصہ سمجھی جاتی ہیں۔ یوں دونوں تنظیمیں اپنے طریقہ واردات، جنگی حربوں، ذرائع ابلاغ کے استعمال سمیت کئی دوسرے پہلوؤں سے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں۔

مخالفین کے قتل عام کی ویڈیوز بنا کر دوسروں پر رعب طاری کرنے کے لیے انہیں مشتہر کرنا صرف داعش ہی کی جانب سے نہیں بلکہ حزب اللہ کی طرف سے بھی یہ حربہ آزمایا جاتا رہا ہے۔ دونوں گروپ خوفناک مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرکے اپنی مجرمانہ عسکری گرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کوشاں دکھائی دیتی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے معاملے میں بھی حزب اللہ اور داعش ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔ شام میں صدر بشار الاسد کی وفاداری میں جنگ کے دوران جتنے عام شہری حزب اللہ کے دہشت گردوں نے قتل کیے ہیں مخالفت میں داعش نے شاید اتنے نہ کیے ہوں۔ مگر دونوں گروپ عام شہریوں کے وحشیانہ قتل عام میں ایک ہی راستے پر چلتے دکھائی دیتے ہیں۔

دونوں میں ایک قدرے مشترک یہ ہے کہ دونوں ہی دوسرے ملکوں میں جنگجوں کے لیے غیرملکی جنگجوؤں کا سہارا لیتے ہیں۔ داعش شام اور عراق میں جنگ کے لیے بیرون ملک سے جنگجو بھرتی کرتی ہے جب کہ حزب اللہ بھی لبنان اور شام کے علاوہ دیگر ممالک سے اپنے حامیوں کو اس جنگ میں جھونک رہی ہے۔

نظریاتی اعتبار سے بھی دونوں ایک ہی ڈگرپر چلنے والے گروپ ہیں۔ داعش حزب اللہ کو اور حزب اللہ داعش کی تکفیر کرتی ہے۔ حزب اللہ کے نظریاتی بنیادوں کا پس منظر ایران کا ولایت فقیہ کا نظام ہے جب کہ داعش ابو بکر البغدادی اور القاعدہ کے نظریات کو اپنائے ہوئے ہے۔ دونوں اپنے تئیں اسلام کی ’خدمت گار‘ ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں مگر ان کے ہاتھوں سب سے زیادہ مسلمان ہی ہلاک ہو رہے ہیں۔