.

اسد رجیم کی درندگی، وہیل چیئرپرعمر رسیدہ خاتون کی موت!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں شام کے شہر حلب کا ذکر سنتے ہی موت، بمباری، نہتے شہریوں کے قتل عام اور بے یارو مدد گار شہریوں کے دلسوز واقعات سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جس میں شامی فوج، اس کی حلیف روسی فوج اور ان گنت عسکری ملیشیاؤں کے حملوں میں بچے، بوڑھے، عورتیں اور مرد شہید اور زخمی نہ کیے جاتے ہوں۔ بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے بعد زندہ بچ جانے والے دہری مصیبت کا شکار ہیں۔ کسی کو اپنے شہید باپ کی اور کسی کو ماں اور کسی کو بیٹی یا کسی بھائی کو بہن کی لاش کی تلاش ہے۔ تین ہفتوں سے شامی فوج کے جنگی طیارے مشرقی حلب میں دن رات موت بانٹ رہے ہیں۔

اسدی فوج کی وحشت اور بربریت کی ویسے تو ان گنت مثالیں موجود ہیں۔ ایک تازہ تصویر جس نے زندہ ضمیر انسانوں کو ہلا کر رکھ دیا ایک معمر خاتون کی ہے جو وہیل چیئر پر سڑک پر چلتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئےدم توڑ گئی۔

بمباری میں زخمی ہونے اور بعد ازاں طبی امداد نہ ملنے کے نتیجے میں فوت ہونے والی عمر رسیدہ خاتون کی تصویر ایک مقامی فوٹو گرافر یحییٰ الرجو نے بنائی۔ خبر رساں ادارے’اناطولیہ‘ سے بات کرتے ہوئے فوٹو گرافر کا کہنا ہے کہ یہ تصویر مشرقی حلب میں الشعار کالونی میں ایک معمر خاتون کی ہے جو پانچ دسمبر کو اسدی فوج کے جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں زخمی ہوگئی تھی۔ اسے اس کا شوہر وہیل چئیر پر لے جا رہا تھا۔ یحییٰ الرجو کا کہنا ہے کہ زخمی خاتون اس کے ساتھ کمیرے کے سامنے بات کررہی تھی کہ اچانک اس کی حالت بگڑی اور وہ وہیل چیئر پر دم توڑ گئی۔

زخمی خاتون کا شوہر فوت ہونے والی بیوی کے قدموں میں بیٹھ کر زارو قطار رو رہا تھا۔ خاتون نے اپنی وفات سے چند لمحے قبل بتایا کہ اس کے مکان پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں مکان ملنے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اس کے سات بچوں کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔