.

’جی سی سی‘ کی خطے میں ایرانی مداخلت کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کی میزبانی میں خلیج تعاون کونسل کی 37 ویں سربراہ کانفرنس آج بدھ کو اختتام پذیر ہوگئی۔ اجلاس میں گذشتہ برس ریاض میں ہونے والی 36 ویں سربراہ کانفرنس میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ویژن کو اس کی روح کے مطابق آگے بڑھانے اور تعاون کو باہمی دفاعی، اقتصادی اور سیکیورٹی شعبوں میں تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس کےاختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں خطے میں ایرانی مداخلت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ خطے میں دہشت گردی کی پشت پناہی اور فرقہ واریت کی سازشوں سے باز رہے۔

’جی سی سی‘ کی سربراہ قیادت نے باہمی تعاون کے جملہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے عزم کے ساتھ ساتھ عالمی اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ شراکت کو وسعت دینے سے بھی اتفاق کیا۔

جی سی سی کا حالیہ سربراہ اجلاس اس اعتبار سے منفرد رہا کہ اس میں برطانوی وزیراعظم تھریسا مے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں تمام خلیجی ریاستوں کا برطانیہ کے ساتھ اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے نمٹنے کے لیے برطانیہ اور خلیجی ممالک مل کر کام کرنے پر متفق ہیں۔

تھریسا مے نے برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان انٹیلی جنس شعبوں میں تعاون کو سراہا اور کہا کہ سعودی انٹیلی جنس اداروں نے بروقت معلومات فراہم کرکے برطانیہ میں دہشت گردی کی کئی سازشوں کو ناکام بنا کر ہزاروں بے گناہ انسانی جانوں کو بچانے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے ایران کی خلیجی ممالک میں مداخلت روکنے کے لیے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔