.

القائم میں پراسرار فضائی حملہ، درجنوں عراقی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں شامی سرحد کے نزدیک واقع علاقے القائم پر فضائی حملہ کرنے والوں کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی اور اس سلسلے میں متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ایک جانب عراقی فوجی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے جب کہ دوسری جانب بین الاقوامی اتحاد کو اس حملے کا ذمے دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ حملے میں درجنوں شہری جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے میں ایک بازار کو ہجوم کے اوقات میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بعض پورے خاندان موت کی نیند سو گئے جب کہ بعض لوگ اپنی تنخواہوں کی وصولی کے واسطے لائنوں میں کھڑے تھے۔

داعش کے خلاف برسرپیکار اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اتحادی طیاروں نے اس وقت مذکورہ علاقے کو حملے کا نشانہ نہیں بنایا۔

داعش تنظیم کے خلاف معرکوں کی نگرانی کرنے والی مشترکہ عراقی آپریشنز کی کمان نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب موصل آپریشن میں عراقی افواج کی پیش قدمی جاری ہے۔ عراقی افواج نے آپریشن کو دشوار اور پیچیدہ قرار دیا ہے اس لیے کہ داعش تنظیم موصل میں دو برس سے اپنی فورس کو مضبوط کر رہی ہے.. ایسی صورت میں عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے رواں برس کے اختتام تک داعش تنظیم کے مکمل خاتمے کی ہدایت عملی طور پر ممکن نہیں نظر آتی۔