.

شام: ایرانی وڈیو میں حلب کے خلاف اشتعال انگیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے شام میں اپنی گھناؤنی مسلکی اشتعال انگیزی کے سلسلے میں بچوں کے تھیٹر کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا۔ " ایرانی انقلاب کو برآمد" کرنے کے واسطے تہران میرں ایرانی قیادت پر خطے میں سماجی ، مذہبی اور سیاسی غلبہ حاصل کرنے کا جنون سوار ہے۔

ایک طرف ایران اپنے پاسداران انقلاب کی فورس اور ایرانی نظام سے مربوط شیعہ ملیشیاؤں کو شام بھیج رہا ہے جو وہاں شامی عوام کے قتل اور ان کو زبردستی ہجرت کروانے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف وہ فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کے واسطے مسلکی اشتعال انگیزی کی زبان پھیلانے کے حوالے سے بھی سرگرم نظر آ رہا ہے۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اس سلسلے میں اسٹیج ڈرامے اور تھیٹر کی وڈیو تیار کی گئی ہیں جن میں ہیرو کے اکثر کردار بچوں نے ادا کیے ہیں۔ وڈیو میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کہ شہادت کا ذکر بار بار دہرایا گیا ہے جب کہ شام کے شہر حلب کے اہلیان کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی ہے جو خود اس وقت بدترین شکل میں بم باری ، تباہی و بربادی ، ہلاکت اور خونریزی کا سامنا کر رہے ہیں۔

منظم اشتعال انگیزی پر مبنی اس ڈرامے اور تھیٹر کو شام کے شہر لاذقیہ میں رسولِ اعظم کمپلیکس کے ایک ذیلی شعبے نے تیار کیا ہے۔ یہ کمپلیکس ایران کے مُلائی نظام کے لیے ایک براہ راست صدر دفتر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ واضح رہے کہ کمپلیکس کو چلانے والے ڈاکٹر ایمن زیتون نے اپنی مذہبی تعلیم ایران کے شہر " قُم" میں حاصل کی۔

نواسہِ رسول کے چہلم کی مناسبت سے پیش کیے جانے والے اس تھیٹر کو 22 نومبر کو یوٹیوب پر کمپلیکس کی جانب سے پوسٹ کیا گیا۔ تھیٹر میں نئی بات صرف یہ تھی کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے مقام کا تعین نہیں کیا گیا بلکہ اس جانب اشارہ کرنے کے واسطے "حلب کے قریب" کی عبارت بار بار استعمال کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق تھیٹر میں وہ ہی اسلوب دیکھنے میں آیا ہے جو ایران خطے میں عرب ممالک کے عوام کے اندر فتنہ اور اشتعال انگیزی پھیلانے کے واسطے استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ موسیقی کے استعمال سے تھیٹر میں بیان کیے جانے والے واقعات کو مزید پراثر بنانے کی کوشش کی گئی۔

تھیٹر کے اختتام کے بعد بھی یہ وجہ معلوم نہ ہو پائی کہ حلب کا نام استعمال کرنے کی کیا وجہ تھی۔

مذکورہ تھیٹر کے نگراں کا نام نزار غدیر ہے جو رسول اعظم کمپلیکس کے ذیلی شعبے کا

ذمے دار ہے اور بشار الاسد کے زیرانتظام میڈیا پر کافی زیادہ نمودار ہوتا ہے۔ اس اسٹیج ڈرامے کے ہدایت کار کا نام نديم جعبری ہے جو لاذقیہ کے مذکورہ کمپلیکس کا سینئر اہل کار ہے۔

یاد رہے کہ یہ کمپلیکس اپنے رسوخ کے باعث شام کے اسکولوں اور کالجوں میں ایرانی شیعہ ازم پھیلانے کا ایک اہم آلہ کار ہے۔ صدر بشار الاسد کے ساتھ کمپلیکس کے روح رواں ایمن زیتون کے کافی گہرے اور براہ راست مراسم ہیں۔