.

شام میں بم دھماکے میں ایک ترک فوجی ہلاک ،چھے زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر الباب کے نزدیک کار بم حملے میں ایک ترک فوجی ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے فوج کے ایک بیان کے حوالے سے ترک فوجیوں پر الباب کے نزدیک بم حملے کی تصدیق کی ہے۔یہ شہر ترکی کی سرحد سے پچیس کلومیٹر دور واقع ہے۔ بیان کے مطابق زخمیوں میں ایک فوجی کی حالت تشویش ناک ہے۔ قبل ازیں بم دھماکے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔

ترک میڈیا کی اطلاع کے مطابق اس مہلک حملے کے بعد فضائیہ نے شام میں داعش کی تنصیبات کو بمباری میں نشانہ بنایا ہے اور ان کے بارہ اہداف تباہ اور تیئیس انتہا پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

ترکی شام کے سرحدی علاقے میں 24 اگست سے''فرات کی ڈھال'' کے نام سے داعش اور شامی کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کررہا ہے۔اس کارروائی کے آغاز کے بعد سے ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے سرحدی شہروں جرابلس ،الرائے اور دابق سمیت متعدد دیہات اور قصبوں پر داعش کو شکست دینے کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔

تاہم شامی باغی الباب پر قبضے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔اس شہر میں داعش کے جنگجو ترک فوجیوں اور شامی باغیوں کے ابتدائی حملے میں منتشر ہونے کے بعد دوبارہ منظم ہوگئے ہیں اور وہاں داعش کے حملوں میں ترک فوج کے جانی نقصان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ترک فورسز کی شامی علاقے میں مداخلت کے بعد سے داعش کو مسلسل پسپائی کا سامنا ہے جبکہ کرد ملیشیا وائی پی جی نے بھی اب اپنی جنگی کارروائیاں محدود کردی ہیں۔

واضح رہے کہ نومبر میں شام میں ایک فضائی حملے میں چار ترک فوجی مارے گئے تھے۔تب ترک فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ فضائی حملہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے کہا تھا۔ 29 نومبر کو ترک فوج نے شام میں اپنے دو فوجیوں کے لاپتا ہونے کی بھی اطلاع دی تھی جبکہ داعش سے وابستہ اعماق نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگجوؤں نے ان دونوں فوجیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔