.

جدہ کی مساجد اسلامی تاریخ،تہذیب وتمدن کا حسین امتزاج!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جدہ شہر سعودی عرب کا سیاحتی اور تجارتی مرکز ہی نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا سربلند ہے جو مساجد اور گنبد ومینار کی وجہ سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتاہے۔ اس شہر میں 2300 چھوٹی بڑی مساجد ہیں جو اسلامی فن تعمیر کی تاریخی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا بھی حسین امتزاج ہیں۔

جدہ گورنری میں قائم ان تاریخی مساجد کی نگرانی، صحت وصفائی اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری محکمہ مذہبی امور ودعوت و ارشاد کے سر ہے۔ محکمہ مذہبی امور کی قائم کردہ کمیٹیوں کے کارکن روز مرہ کی بنیاد پر ان تاریخی مساجد کی نہ صرف دیکھ بحال کرتے ہیں بلکہ اسلامی تاریخ کو محفوظ بنانے میں سرگرم عمل ہیں۔

حال ہی میں سعودی عرب کی ’پریس ایجنسی‘ کی ایک ٹیم نے جدہ گورنری میں واقع تاریخی مساجد کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جدہ گورنری کی تاریخی مساجد اسلامی تاریخ اور تہذیب وتمدن کا حسین امتزاج ہے۔ مسجد شاہ سعود، مسجد التقویٰ، مسجد خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز، مسجد شہزادہ ماجد بن عبدالعزیز، جامع مسجد الفرقان، جامع مسجد اللامی، جام مسجد الشربتلی، جامع مسجد الغزاوی اور جامع مسجد سلطان بن عبدالعزیز جدید فن تعمیر کے حسین شاہکار ہیں۔

پرانی مساجد میں مسجد امام الشافعی اس شہر کی سب سے پرانی ہے جو 17 ویں صدی میں تعمیر کی گئی۔ مربع شکل میں تیار کی گئی اس مسجد کی تعمیر اسلامی فن تعمیر کا خوبصورت عکس ہے۔ اس مسجد کی تعمیر میں سمندری مٹی، پتھروں اور لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔