.

داعش بیرون ملک کارروائیوں کے اہم منصوبہ ساز سے محروم

بو بکر الحکیم کو 26 نومبر کو اتحادی فوج نے نشانہ بنایا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع نے حال ہی میں شام میں داعش کے گڑھ الرقہ شہر میں اتحادی فوج کے فضائی حملے میں داعش کے اہم کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحادی جنگی طیاروں نے 26 نومبر کو الرقہ میں ایک فضائی حملے میں داعش لیڈر بوبکر الحکیم کو نشانہ بنایا تھا جس میں اس کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ مقتول داعشی دہشت گرد کی عمر 33 سال تھی اور وہ تیونسی نژاد فرانسیسی تھا۔ اس کے فرانس اور تیونس میں دوسرے دہشت گردوں کے ساتھ بھی گہرے روابط تھے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بوبکر الحکیم کی ہلاکت سے داعش بیرون ملک دہشت گردانہ کارروائیوں کے منصوبہ ساز سے محروم ہوگئی ہے۔ الحکیم کی ہلاکت سے داعش کی حملوں کی صلاحیت پربھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

قبل ازیں یکم دسمبر کو شامی اپوزیشن نے داعش کے ایک اہم کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا تاہم مصدقہ طور پر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ مقتول داعشی جنگجو گذشتہ دس سال سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ داعش میں شمولیت سے قبل وہ سنہ 2003ء اور 2004ء میں القاعدہ کے ساتھ بھی وابستہ رہ چکا ہے۔

کمانڈر بو بکر الحکیم پر سنہ 2013ء میں ایک تیونسی رکن پارلیمنٹ اور اپوزیشن رہ نما محمد البراہیمی کے قتل کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔

مئی سنہ 2008ء میں فرانس کی ایک عدالت نے الحکیم کو گرفتار کرکے فرانسیسی شہریوں کو عراق بھیجنے میں معاونت کے الزام میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم اسے جنوری 2011ء کو رہا کر دیا گیا تھا۔

سنہ 2000ء میں داعشی جنگجو نے ’فرید بن یاتو‘ نامی ایک نیٹ ورک تشکیل دیا اور شریف کواشی نامی ایک شدت پسند کو بھی اس میں شامل کیا گیا جس نے بعد ازاں سات جنوری 2015ء کو گستا خانہ خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو کے صدر دفتر پرحملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔