.

صدام حسین کے ساتھ پہلے تحقیق کار کی گواہی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار نے دعوی کیا ہے کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین 2003 میں امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری سے کئی سال قبل ہی ملک کے انتظامی امور اور حکومتی معاملات سے غافل ہو چکے تھے۔

امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی CIA کے سابق تجزیہ کار جان نکسن کے مطابق " یقینا صدام اپنے آخری برسوں میں ناولوں کی تصنیف میں مصروف تھے اور انہوں نے فوج پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی اس بات کی فکر کی کہ ان کے پیروکار کس طرح ملک چلا رہے ہیں"۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق جان نکسن وہ پہلے تحقیق کار تھے جنہوں نے صدام حسین کی گرفتاری کے بعد ان سے پوچھ گچھ کی۔

نکسن نے اپنی کتاب میں جو 27 دسمبر کو بازار میں دستیاب ہو گی ، عراق کے سابق صدر کے حوالے سے بتایا کہ "جس وقت امریکی اور برطانوی افواج عراق میں داخل ہوئی ہیں تو اس وقت صدام اس بات سے ناواقف تھے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ اپنی حکومت کی کارستانیوں سے ناواقف تھے اور ان کے پاس عراق کے دفاع کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ نہیں تھا"۔

صدام کے بارے میں ایک نئی کتاب

جان نکسن نے اپنی نئی کتاب :

Debriefing the President : The Interrogation of Saddam Hussein

میں سابق عراقی صدر کی گرفتاری کے ابتدائی لمحوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ نکسن کا کہنا ہے کہ صدام اپنی گرفتاری کے وقت بھی اس طرح سے نخوت اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرتے رہے گویا کہ یہ واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ وہ تحقیق کار پر اوپر سے نیچے تک حقارت کی نظر ڈال رہے تھے۔

نکسن کےمطابق "گرفتاری اور حراست کے وقت بھی وہ خوف اور دہشت پیدا کر رہے تھے"۔

نکسن نے پوچھا کہ " تم نے اپنے بیٹوں عدی اور قصی کو آخری بار زندہ کب دیکھا تھا؟ "

صدام نے جواب دیا کہ " تم کون ہو ؟ کیا تم لوگوں کا تعلق فوجی انٹیلی جنس سے ؟ جواب دو اور اپنی شناخت ظاہر کرو ؟ "۔

اس کے بعد نکسن سے کہا کہ " تمہارا انجام ناکامی ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ عراق پر حکومت کرنا آسان کام نہیں"۔

صدام حسین کو 13 دسمبر 2003 کو ان کے آبائی شہر تکریت کے نواح میں واقع قصبے الدور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے تین سال بعد انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے الزام میں انہیں دسمبر 2006 میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

جارج نکسن کون ہے ؟

امریکی انٹیلی جنس کی قیادت کے لیے تجزیہ کار کے طور پر کام کرنے والے جارج نکسن نے صدام حسین کی شخصیت کے مطالعے کے مشن پر برسوں صرف کیے۔ انہیں گرفتار شخص کی شناخت کی تصدیق اور صدام حسین کی صفات کی تلاش کے لیے خصوصی طور پر بلایا گیا تھا۔

ڈیلی نیوز کے مطابق " نکسن کو صدام حسین سے پوچھ گچھ کی ذمے داری سونپی گئی جو ایک دشوار ترین مشن تھا"۔

جان نکسن نے صدام کو ایک پرانے زخم کے نشان سے شناخت کیا جو ایک مرتبہ گولی لگنے کی وجہ سے ان کو آیا تھا۔ اس کے علاوہ صدام کے قبیلے سے متعلق دو خصوصی نشان بھی جسم پر موجود تھے۔

پوچھ گچھ

صدام حسین سے جب ان افواہوں کی تصدیق چاہی گئی کہ آیا ان کا سمیرہ نامی بیوی سے کوئی بیٹا ہے جس کا نام علی ہے۔ تو صدام حسین نے تحقیق کار کو جواب دیا کہ " اگر میں تم سے کہہ دوں کہ ہاں تو کیا تم لوگ عدی اور قصی کی طرح اس کو بھی قتل کر ڈالو گے؟ "

نکسن کے اصرار پر صدام نے جواب دیا کہ "عرب ثقافت میں جن لوگوں کے اولاد ہوتی ہے ہم ان کو شادی شدہ شمار کرتے ہیں خواہ انہوں نے سرکاری طور پر شادی کی ہو یا نہیں.. اس کے مقابل جن کے اولاد نہیں ہوتی وہ ہمارے یہاں غیر شادی شدہ شمار ہوتے ہیں"۔

نکسن کی کتاب کے مطابق صدام نے سمیرہ نامی خاتون سے شادی کی تھی اور حقیقت میں اس خاتون سے علی نامی بیٹا بھی تھا۔

کتاب کے ناشر ادارے کے مطابق صدام حسین کے ساتھ سب سے طویل تحقیق اور پوچھ گچھ کرنے والے جارج نکسن کی کتاب سابق عراقی صدر کے حوالے سے ہلا دینے والے انکشاف کرے گی۔