.

حلب میں اسدی فوج نے 200 عورتیں اور بچے قتل کردیے

اپوزیشن کی عالمی برادری سے مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر حلب میں شام کی سرکاری فوج اور اس کی مدد گار دہشت گرد عسکری گروپوں نے گذشتہ روز وحشیانہ کارروائیوں کے دوران فائرنگ کرکے کم سے کم 200 بچوں اور خواتین سمیت بے گناہ شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حلب میں زمینی پیش قدمی کے دوران سرکاری فوج نے سامنے آنے والے ہر عام شہری کو گولیوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ گذشتہ روز اسدی فوج کے گماشتوں نے حزب اللہ جنگجوؤں کی معاونت س حلب میں ایک اسپتال کے پورے عملے کو یرغمال بنانے کے بعد انہیں ایک ایک کر کے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور شامی فوج مل کر شہریوں کے اجتماعی قتل عام کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ گذشتہ روز سیکڑوں بے گناہ شہریوں کو قریب سے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ مقتولین میں اکثریت بچوں اور خواتین کی بتائی جاتی ہے جن کا جنگ سے کوئی دور دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔

’’العربیہ‘‘ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ الفردوس کالونی میں اسدی فوج اور اس کی معاون مذہبی ملیشیا کے عسکریت پسندوں نے نو بچوں اور چار خواتین کو زندہ جلا ڈالا۔

حلب میں شہری دفاع کے عملے کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسدی فوج کی بمباری کے نتیجے میں درجنوں افراد منہدم ہونے والے مکانوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ قریبا 90 افراد ملبے کے نیچے ہیں۔ مسلسل بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں ان کی میتیں نکالنا مشکل ہو رہا ہے۔

درایں اثناء شامی اپوزیشن کی نمائند’جیش الحر‘ کے قانونی مشیر اسامہ ابو زید نے عالمی برادری سے حلب میں شہریوں کو اسدی فوج کی دہشت گردی سے تحفظ دلانے اور نقل مکانی کرنے والوں کو مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی طرف سے ضمانت دی جائے تو جیش الحر بھی حلب سے نکلنے کے لیے تیار ہے۔

ابو زید نے بتایا کہ شامی فوج حلب سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو زبردستی اپنے ساتھ جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق یان ایگلان نے حلب میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر شام اور روس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شامی اور روسی فوجیں حلب میں فتح کے حصول کی آڑ میں نہتے شہریوں کا قتل عام کررہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان نے بھی حلب میں انسانی حقوق کی سنگین پا مالیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حلب میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد کو اسدی فوج کے گمانشتوں نے قتل کرنا شروع کر رکھا ہے۔ حلب میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں۔

برطانوی اخبار"دی گارڈین" نے حلب کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے حلب کو "سب سے بڑا اجتماعی قبرستان" قرار دیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ حلب کا اسدی فوج کے قبضے میں جانا موجودہ نسل کے لیے باعث عار ہے۔

ایک اندازے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حلب میں شامی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کے بعد 10 ہزار شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔