.

خامنہ ای کی عراقی "موبیلائزیشن" ملیشیا کی مدح سرائی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے عراقی شیعہ "پاپولر موبیلائزیشن" ملیشیا کو بھرپور انداز سے سراہا ہے۔ اتوار کے روز عراقی شیعہ اتحاد کی قیادت کو دیے گئے استقبالیہ میں خامنہ ای نے موبیلائزیشن ملیشیا کو قومی دولت قرار دیا جس کی مکمل سپورٹ کی جانی چاہیے۔

ایرانی مرشد اعلی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق خامنہ ای سے ملاقات کرنے والے وفد کی قیادت شیعہ اتحاد کے سربراہ اور عراقی اسلامی سپریم کونسل کے چیئرمین عمار الحکیم کر رہے تھے۔ اس موقع پر خامنہ ای نے عراق میں شیعہ گروپوں کے اتحاد کی تشکیل پر مسرت کا اظہار کیا اور وفد کو خبردار کیا کہ امریکیوں پر ہر گز اعتماد نہ کریں اور ان کی مسکراہٹوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔ ایرانی مرشد اعلی نے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

یہ بات معروف ہے کہ موبیلائزیشن ملیشیا کی تشکیل درحقیقت ایرانی منصوبہ ہے جس کا اعلان ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سابق کمانڈر جنرل محسن رفیق دوست نے کیا تھا۔ 1979 کے انقلاب کے بعد رفیق دوست پاسداران کے نمایاں ترین بانی ارکان میں سے ہیں۔ انہوں نے پاپولر موبیلائزیشن کو اسلحے ، تربیت اور تجربہ منتقل کرنے کے عمل میں تہران کے براہ راست حصہ لینے کی تجویز پیش کی تھی۔

خامنہ ای کے لیے موبیلائزیشن کی وفاداری

پاپولر موبیلائزیشن کے متعدد ذمے دار تہران کے لیے اس ملیشیا کی وفاداری کی تصدیق کر چکے ہیں۔ ان میں ملیشیا کے ایک بریگیڈ کے کمانڈر حامد الجزائری کا بیان شامل ہے۔ انہوں نے ایران ی سرکاری ایجنسی "ميزان" سے گفتگو میں کہا تھا کہ "پاپولر موبیلائزیشن کی قیادت نے ایرانی نظام کی گود میں پرورش پائی ہے.. ملیشیا خود کو ولایت فقیہ کی ریاست کے ماتحت شمار کرتی ہے جو کسی سرحد کو تسلیم نہیں کرتی"۔

الجزائری نے باور کرایا کہ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے قاسم سلیمانی کو مکمل اختیارات سونپ دینے کے بعد پاپولر موبیلائزیشن سلیمانی کو عراق میں خامنہ ای کا مندوب سمجھتی ہے۔

عراق میں سلیمانی اور ایرانی آلہ کار شخصیات

ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کے ونگ قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کا پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا کی تشکیل میں اہم کردار رہا۔ اس سلسلے میں عراق میں حلیفوں اور ایرانی آلہ کار شخصیات کی بھرپور معاونت حاصل رہی۔ ان شخصیات میں سرفہرست بدر تنظیم کا کمانڈر ہادی العامری ، سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی ، پاپولر موبیلائزیشن کمیٹی کا سربراہ انجینئر ابو مہدی شامل ہے۔

بدر تنظیم کے سربراہ اور پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا کے ایک اہم کمانڈر نے اگست میں ایک بیان میں موبیلائزیشن فورس کو عراقی فوج اور پولیس سے زیادہ طاقت ور قرار دیا تھا۔

ایران چاہتا ہے کہ پاپولر موبیلائزیشن عراقی فوج کے متوازی ایک عسکری فورس ہو جس کو وہ خطے میں اپنی جنگوں میں ایجنٹ کے طور پر استعمال کر سکے۔ اسی طرح یہ بغداد میں حکمراں شیعہ جماعتوں کے تحفظ کے واسطے آلہ کار بھی ہو۔

عراق کو اس کے عرب اطراف سے تنہا کرنا

اس سے قبل عراقی پارلیمنٹ کی خاتون رکن لقاء وردی یہ باور کرا چکی ہیں کہ ایران اپنی ہمنوا ملیشیاؤں کے ذریعے عراق میں "سنیوں سے انتقام کی ثقافت" کا بیج بو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ "عراق کے عسکری اور سکیورٹی اداروں کو مسلکی اور فرقہ وارانہ ایجنڈوں سے دور رکھا جائے"۔ وردی نے باور کرایا تھا کہ عراق کو کھینچ کر ایرانی افق پر لے جانے اور اس کے قومی اور عرب سیاق سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔