.

سعودی عرب : "مندی کے دُھوئیں" کے سبب دائر مقدمے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں "مندی تیار کرنے والے" شخص نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ تنور سے نکلنے والا دُھواں اُس کے خلاف عدالتی مقدمے کا سبب بن جائے گا۔

مندی (گوشت اور چاولوں پر مشتمل پکوان) کو علاقے میں ایک مقبول کھانے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی تیاری کے سلسلے میں ایک بڑا تنور بنایا جاتا ہے اور اس میں آگ جلانے کے واسطے کھجور کے تنے استعمال کیے جاتے ہیں۔

مقدمہ دائر کرنے والے مدعی کا موقف تھا کہ تنور سے نکلنے والا دھواں کھیتوں سے بھرے علاقے میں اُس کے اور اُس کے پڑوسی کے درمیان حائل دیوار سے تجاوز کر کے اُس کے کھیتوں تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے اسے ناپسندیدہ بُو سے تکلیف پہنچی۔

مقدمے پر تفصیلی غور کے بعد شرعی عدالت کے قاضی نے مقدمہ خارج کر دیا کیوں کہ مدعی نے جن نقصانات کا دعوی کیا تھا ان کا وقوع نہیں پایا گیا۔

دوسری جانب ایڈوکیٹ خلاد الشہیلی کے مطابق اس نوعیت کے غیر سنجیدہ اور بے سروپا مقدمات عدالت کو بے مقصد مصروف کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ الشہیلی نے باور کرایا کہ اس نوعیت کے تنازعات کے حل کے لیے سب سے بہتر شخص مقامی مسجد کا امام یا علاقے کی پنچائیت یا جرگہ ہے۔ عدالت کے ججوں کو بڑے مسائل کے لیے فراغت دینی چاہیے۔ خالد الشہیلی نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے چال بازی کے مقدمات میں عدالت کا وقت ضایع کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی ہونا چاہیے۔