.

یمن : "بدعنوانی" سے حوثیوں کی صفوں میں اختلافات کا دائرہ وسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثیوں کے ایک اہم اور نمایاں رہ نما نے اپنی جماعت اور اس کے سربراہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حوثی رہ نما اور صنعاء یونی ورسٹی کے تدریسی عملے میں شامل ڈاکٹر عبدالسلام الکبسی نے غیر متوقع طور پر اپنے حوثی ساتھیوں اور یمنی سیاسی حلقوں کو حیران کر ڈالا۔ انہوں نے حوثی ملیشیاؤں کے حوالے سے اپنے تعریفی اور مد سرائی کے موقف کو ملیشیا پر کڑی نکتہ چینی میں تبدیل کر دیا۔

فیس بک پر اپنے صفحے پر الکبسی نے لکھا کہ " عرب دنیا کی سطح پر میرے جیسیا سینئر دانش ور سب سے پہلے عبدالملک الحوثی سے کہے گا کہ رخصت ہو جاؤ"۔

الکبسی نے باغیوں کی حکومت کے وزیر تعلیم یحیی بدر الدین الحوثی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "یحیی الحوثی کی فقاہت کس درجے کی ہے جو اس نے تعلیم و تربیت کی باگ ڈور سنبھالی ہوئی ہے۔"

ایک دوسرے بیان میں الکبسی نے مزید کہا کہ " میں آنے والی نسلوں کے لیے لکھوں گا کہ وہ نعروں سے دھوکہ نہ کھائیں اور سچوں کے ساتھ رہیں۔ میں انصار اللہ تنظیم کے ارکان کو سچا نہیں شمار کرتا۔ انہوں جب ہم سے بات کی تو جھوٹ بولا اور جو وعدہ کیا اس کو کبھی پورا نہ کیا۔ انہوں نے علماء کو نیچے کیا اور جہلاء کو بلند مرتبہ دیا۔ انہوں نے ہمیں استعمال کیا یہاں تک کہ کامیاب ہو گئے"۔

ادھر حوثی رہ نما عبدالوہاب قطران نے بھی اپنی جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ قطران نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ " یہ لوگ ماضی کی بنیاد پر حال اور مستقبل کے فیصلے کرنا چاہتے ہیں جب کہ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ماضی اور حال کو مستقبل کے ماتحت لائیں۔ اسی بنیاد پر سماجی ، اقتصادی اور سیاسی رجحانات کو جانچنا چاہیے"۔

حوثیوں کی شرم ناک اور رُسوا کن بدعنوانیاں

دوسری جانب حوثیوں کے نمایاں لیڈر محمد المقالح نے عبدالکریم الحوثی (حوثیوں کے سربراہ کا چچا) کی جانب سے دھمکیاں موصول ہونے کے باوجود بھی اپنی جماعت کے حوالے سے اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ المقالح نے انکشاف کیا ہے کہ صنعاء میں حقیقی حکمراں عبدالکریم الحوثی ہے۔

باغی حوثی حکام کے بارے میں اپنے تازہ ترین بیان میں المقالح کا کہنا ہے کہ " خفیہ حکام کو کوئی نہیں جانتا اور ان کے پاس بھتہ خوروں ، لٹیروں اور بدمعاشوں کے سوا کوئی نہیں جاتا۔ کسی معزز شخص سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ بھکاری بن کر روزگار یا کسی اور مقصد کے لیے ان حکام کے پاس جانا پسند کرے۔ لہذا ان نامراد حکام کے گرد صرف ان کی چاپلوسی کرنے والے عناصر اپنے مفادات کے لیے منڈلاتے رہتے ہیں"۔

المقالح نے اپنی جماعت کی جانب سے تنگ کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ " قبیح ترین امر یہ ہے کہ تم لوگ اُن شخصیات کو جو گزشتہ دور میں تمہارے خلاف تمام چھ جنگوں میں تمہاری مظلومیت کے ساتھ کھڑے ہوئے ، انہیں صرف اس وجہ سے سزا کا مستحق ٹھہراؤ کہ ان میں سے کسی نے اپنی پوسٹ میں تمہاری آج کی لوٹ مار اور بدمعاشی اور غنڈہ گردی پر تنقید کر دی"۔

ملیشیاؤں کے افعال اور جرائم سے لاتعلقی اور براءت

حوثیوں کے سابق رہ نما علی البخیتی سب سے پہلی شخص تھے جنہوں نے ملشیاؤں کے افعال اور جرائم سے لا تعلقی کا اظہار کیا تھا اور ملیشیا کی قیادت کے خلاف موقف اپنایا تھا۔

اگرچہ البخیتی حوثی جماعت کی سیاسی کونسل کے رکن تھے ، ساتھ ہی وہ قومی مکالمے کی کانفرنس میں حوثیوں کے سرکاری ترجمان بھی تھے.. تاہم صنعاء پر باغیوں کے حملے ، غیر مسبوق جرائم کے ارتکاب اور پھر آئینی حکومت کا تختہ الٹ دیے جانے کے بعد البخیتی اپنے تمام منصبوں اور حوثی تحریک کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے۔ وہ ملک سے باہر چلے گئے تاکہ حوثی ملیشیاؤں کے جرائم اور بدعنوانیوں کو بے نقاب کر سکیں۔

باغی ملیشیاؤں کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کے حوالے سے منعقدہ تقاریب پر تبصرہ کرتے ہوئے البخیتی نے لکھا کہ " میلاد النبی کو منانے کے لیے حوثیوں کی جانب سے خرچ کی جانے والی تمام رقم حرام اور ناجائز طور سے حاصل کی گئی۔ ٹی وی نشریات کے لیے ساز و سامان "سھیل" اور دیگر چینلوں سے لوٹا گیا ، جبری عطیات حاصل کیے گئے اور دیگر متعلقہ اشیاء تاجروں سے دباؤ کے تحت حاصل کی گئیں"۔