.

حلب سے اظہار یک جہتی.. دنیا کے مختلف شہروں میں مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے مخلتف شہروں میں بدھ کی شام حلب شہر کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لیے مظاہرے کیے گئے۔ حلب کے مشرقی حصے کو خصوصی طور پر بشار کی حکومت اور اس کے حلیفوں کی جانب سے منظم نسل کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مظاہرے میں شریک افراد نے حلب کے مشرق میں مسلح شامی اپوزیشن کے آخری گڑھ پر مسلسل بم باری کے خلاف احتجاج کیا اور فضائی حملوں اور گولہ باری کے بیچ پھنسے شہریوں کے لیے بھرپور سپورٹ کا اظہار کیا۔

ترکی کے شہر استنبول میں 1000 سے زیادہ مظاہرین نے ایرانی قونصل خانے کے سامنے جمع ہو کر شام بالخصوص حلب میں تہران اور ماسکو کی کارستانیوں کی سخت مذمت کی۔ مظاہرین نے ایران مخالف نعرے لگائے جن میں "اے قاتل ایران تُو شام سے نکل جا" کا نعرہ بھی شامل تھا۔ کویت کے دارالحکومت میں تقریبا 2000 شہریوں نے روسی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔ کویت شہر میں ہونے والے اس مظاہرے کے شرکاء کا مطالبہ تھا کہ حلب کے مشرقی حصے کا محاصرہ ختم کر کے شہریوں کے انخلاء کی اجازت دی جائے۔

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں بدھ کی شام تقریبا 7 ہزار افراد نے مشرقی حلب پر جاری بم باری کے خلاف احتجاج اور وہاں محصور شہریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر "حلب کو بچائیں" اور "قتلِ عام کو روکو" کی عبارتیں تحریر تھیں۔ اس سے قبل ڈنمارک کے وزیراعظم لارس راس موسن نے بدھ کو دن میں اپنے ایک ٹوئیٹ میں لکھا تھا کہ "حلب کو ایک خوف ناک المیے کا سامنا ہے.. بچوں کو موت کی نیند سلایا جا رہا ہے اور ہسپتالوں بم باری کا نشانہ بن رہے ہیں ، انسانیت اخلاقیات کا مکمل طور جنازہ نکال دیا گیا ہے"۔

ادھر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بومبیڈو سینٹر کے نزدیک سیکڑوں افراد نے حلب میں محصور شامیوں کی حمایت میں مظاہرہ کیا۔ احتجاج کرنے والے بعض افراد نے ہاتھوں میں شمعیں تھام رکھی تھیں۔ مظاہرین نے "حلب حلب.. شام کو نصرت ملے گی" اور "بشار اور پوتن تم دونوں دہشت گرد ہو" کے نعرے لگائے۔