.

"داعشی پاجامہ".. تنظیم میں کپڑوں کا بحران !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم کی جانب سے سامنے آنے والی آخری وڈیو میں ایک افریقی خودکش حملہ آور کے نمودار ہونے کے بعد "داعشی پاجامہ" ایک مرتبہ پھر سے زیر بحث آ گیا ہے۔ وڈیو میں مذکورہ داعشی نے اوپر تو قندھاری کرتا جب کہ نیچے مغربی نوعیت کا عسکری ٹراؤزر پہن رکھا ہے۔ اس کے علاوہ چہرے کو عربی رومال سے چھپایا ہوا ہے۔ یہ حُلیہ عراق کے شہر موصل میں نوجوانوں کا ایک عام لباس ہے۔

شاید یہ تصویر اس بات کا انکشاف کر رہی ہے کہ تنظیم اپنے ارکان اور جنگجوؤں کو داعشی پاجامہ فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی اتحاد کی فضائی ضربوں کے نتیجے میں تنظیم کی تمام سپلائی لائنیں منقطع ہو چکی ہیں اور تنظیم اپنے ارکان کے لیے کپڑوں کا انتظام کرنے میں بھی مکمل طور پر بیرونی سپلائی پر انحصار کرتی ہے۔

تنظیم کی غربت کا اظہار اس کے جنگجوؤں کے کپڑوں سے واضح طور پر ہو رہا ہے۔ حالیہ وڈیوز میں یہ داعشی ارکان تنظیم کی شناخت اور ثقافت کے لحاظ سے مختلف نوعیت کے لباسوں میں نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

"قندھاری وردی" اور انفرادی تشخص کی اہمیت

داعش نے دیگر بنیاد پرست شدت پسند تنظیموں کی طرح اپنے ارکان کے انفرادی تشخص اور تمام جنگجوؤں کا ایک لباس ہونے کو بہت اہمیت دی.. بلکہ اس نے محض جنگجوؤں تک اکتفا نہیں کیا اور اس سے بھی آگے جا کر اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خواتین ، مردوں اور بچوں کے کو بھی مخصوص وردی میں ملبوس ہونے کا پابند کیا۔

داعش نے ناکام پروپیگنڈے کی کوششوں کے سلسلے میں نئی وردی لاگو کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس وردی کو سلائی کی تمام فیکٹریوں میں روشناس کرایا اور بازاروں اور دکانوں پر موجود دیگر تمام جنگجو وردیوں کو ہٹا دیا۔ درحقیقت یہ اقدام بھی عراق اور شام کے شہروں میں وہاں کے اصلی تشخص کو ختم کرنے اور اسے ایک نئی قوم کے جعلی تشخص سے بدلنے کی کوشش تھی۔

داعشی پاجامے کی کہانی

داعشی پاجامے کی کہانی 2014 سے وابستہ ہے جب تنظیم نے شرعی اسلامی لباس کے نام سے اپنے تمام سیکورٹی اور عسکری حلقوں میں ملازمین پر ایک مخصوص وردی کو لازم کر دیا تھا۔ یہ وہ افغانی لباس تھا جو عراق کے صوبے نینوی اور تنظیم کے دیگر زیر قبضہ علاقوں میں اس کے ارکان پہنتے ہیں۔ داعش نے اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے 2 ہزار ڈالر تک جرمانے کی سزا مقرر کی تھی۔

داعش نے عراق اور شام کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں سلائی کے کارخانوں کو موصل میں وزارت صںعت اور معدنیات کے انتظام میں دے دیا اور ان کو پابند بنایا کہ وہ بہت بڑی تعداد میں سیاہ رنگ کے افغانی لباس سی کر تیار کریں۔

مارچ 2015 میں اسپین کے سکیورٹی اداروں نے کپڑے کے 20 ہزار ٹکڑوں کو داعش اور جبہۃ النصرہ کے لیے شام اور عراق بھیجے جانے سے پہلے ہی برآمد کر لیا۔ ان کپڑوں کا انکشاف ویلنسیا شہر میں موجود تین کنٹینروں کے اندر ہوا ، ان کنٹینروں پر "استعمال شدہ کپڑے" تحریر کیا گیا تھا۔

داعش نے اپنی مقرر کردہ اسلامی وردی کو فروغ دیا اور "عربی چوغہ" پہننے پر پابندی عائد کی۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل غور ہے کہ عراق کے دو تہائی شہروں سے سرکاری فوج کے انخلاء کے بعد داعش نے عراقی فوج کے گوداموں سے امریکی عسکری لباسوں کو چُرا لیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ خلافت کی علم بردار تنظیم کے جنگجو داعشی پاجامے کے بدلے ان وردیوں کو استعمال میں لائیں اور داعش کی جانب سے ہالی ووڈ طرز کی وڈیو پروڈکشن میں ڈرامائی وردی کی حیثیت سے ظاہر ہوں۔