.

مصر : خطرناک شدت پسند عادل حبارہ کو پھانسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک خطرناک دہشت گرد عادل حبارہ کو جمعرات کی صبح پھانسی دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل صدر عبدالفتاح السیسی نے حبارہ کے خلاف موت کی سزا کے فیصلے کی توثیق کر دی تھی۔

حبارہ مصر اور اسرائیل کے درمیان سرحدی علاقے میں 25 مصری فوجیوں کے قتل عام کا مرکزی ملزم تھا۔مصر کی اعلیٰ اپیل عدالت نے اتوار کے روز اپنے حتمی فیصلے میں اس کو فوجداری عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔

سیناء کا خطرناک شدت پسند

عادل حبارہ کو مصر کے علاقے سیناء کا ایک خطرناک شدت پسند شمار کیا جاتا تھا۔ وہ وہاں دہشت گردی کا ایک نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اس کو ستمبر 2013 میں العریش کے ایک مصروف بازار میں خودکش بم حملے کی کوشش سے قبل گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس پر دہشت گردی کی دسیوں کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ان میں 19 اگست 2013 کو مصر اور اسرائیل کے درمیان سرحدی علاقے میں 25 مصری فوجیوں کے قتل عام کا واقعہ بھی شامل تھا۔

حبارہ کے خلاف پھانسی دینے کے 4 عدالتی احکامات جاری ہوئے۔ یہ احکامات مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں افسروں اور بھرتی کیے جانے والے اہل کاروں کے قتل ، تکفیری نظریات کو اپنانے ، داعش تنظیم میں شمولیت اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے سے متعلق مقدمات میں جاری کیے گئے۔

عدالتی کارروائی کے دوران میں عادل حبارہ نے رفح کے علاقے میں مصری فوجیوں کی ہلاکت کے منصوبے پر عمل درآمد کا اعتراف کیا۔ جولائی 2014 میں عادل حبارہ نے پولیس اکیڈمی سے واپسی کے دوران میں فرار ہونے کی بھی کوشش کی تھی۔