.

حلب : ایرانی جنرل اور ملیشیاؤں کے 9 ارکان کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران حلب کے مشرق میں ہونے والے معرکوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک جنرل حسن اکبری کے علاوہ افغان اور پاکستانی ملیشیاؤں کے متعدد ارکان ہلاک ہو گئے۔

ایرانی مسلح افواج کی ویب سائٹ "دفاع پریس" کے مطابق جنرل اکبری تدمر شہر میں بریگیڈ کا ذمے دار تھا۔ اسے حلب بُلا لیا گیا تھا جہاں وہ ہفتے کے روز شامی اپوزیشن کے ساتھ جھڑپوں کے دوران توپ کا گولہ لگنے سے مارا گیا۔

ایران نے گزشتہ چند دنوں کے دوران پاسداران انقلاب کے ایک افسر احمد جلالی کے علاوہ افغان ملیشیا "فاطمیون" اور پاکستانی ملیشیا "زینبیون" کے 9 جنگجوؤں کی تدفین کی۔ یہ افراد حلب کے مشرق میں لڑائیوں کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

پاسداران انقلاب کے افسران ایرانی افواج کے کمانڈر جنرل جواد غفاری کی قیادت میں لبنانی حزب اللہ ، افغانی فاطمیون بریگیڈ اور عراق حرکت النجباء کے ارکان کو استعمال میں لا کر حلب کے مشرقی حصے کے خلاف حملوں میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام فرقہ وارانہ ملیشیاؤں نے جمعے کی صبح کم از کم 20 بسوں کو اس وقت یرغمال بنا لیا تھا جب یہ بسیں 1000 کے قریب شامی شہریوں کو لے کر حلب شہر سے نکل رہی تھیں۔ ان فورسز نے حلب کے محصور علاقوں سے انخلاء کے جاری عمل کو روک دینے کا اعلان کیا تھا۔

حلب میں شامی کارکنان کا کہنا ہے کہ ملیشیاؤں نے حلب شہر کے جنوب مغرب میں راموسہ کی گزرگاہ کو بند کر دیا اور 20 سے زیادہ بسوں کو روک لیا۔

حلب میں محصور افراد کے شہر سے نکلنے کے طریقہ کار پر ایرانیوں اور روس کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جواد غفاری کا اصرار ہے کہ مشرقی حلب میں تمام جنگجوؤں اور شہریوں کو محصور رکھا جائے۔