.

تیونسی انجینئر کے قتل کا الزام اسرائیلی موساد پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے دارالحکومت کے جنوب میں واقع صفاقس شہر میں انجینئر محمد الزواری کے قتل نے ذرائع ابلاغ بالخصوس سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

تیونس کی وزارت داخلہ نے جمعرات کے روز اس امر کی تصدیق کی تھی کہ صفاقس شہر کے علاقے العین میں تیونسی شہری کی لاش اس کے گھر کے سامنے گاڑی میں ملی تھی۔ ابتدائی معائنے سے ظاہر ہوا ہے کہ الزواری کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

مذکورہ واقعے نے اس وقت حساس نوعیت کا موڑ لیا جب ایک تیونسی صحافی نے اسرائیلی انٹیلی جنس کے ادارے موساد کو انجینئر الزواری کے خاتمے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ تیونس کے اندر اس وقت یہ سب سے سنسنی خیز خبر ہے بالخصوص مقامی میڈیا کی جانب سے خبر کے غلط ترجمے کے بعد جس میں یہ کہہ دیا گیا کہ "موساد نے تیونسی انجینئر کو ہلاک کرنے کی ذمے داری قبول کر لی"۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ نوجوانی اور طالب علمی کے دور مین الزواری کا اسلام پسند تحریک (حالیہ النہضۃ موومنٹ) سے تعلق رہا۔ وہ 90ء کی دہائی کے آغاز میں تیونس سے لیبیا اور پھر سوڈان چلا گیا۔ اس کے بعد شام میں 20 برس تک سکونت اختیار کی۔ الزواری کا فلسطینی تنظیم "حماس" کے ساتھ بھی قریبی تعلق تھا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق الزواری نے ایک سے زیادہ مرتبہ غزہ کا دورہ کیا تھا۔ اس نے غزہ ، شام اور ایران میں تربیت بھی حاصل کی تھی۔

الزواری کا نام فلسطینی مزاحمت کاروں کو ڈرون طیاروں کی تیاری کے شعبے میں تجربہ پیش کرنے کے سلسلے میں بھی لیا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر وہ اسرائیلی حکام کو مطلوب شخصیت بن گیا تھا۔

جنوری 2011 میں بن علی کی حکومت کے سقوط کے بعد الزواری تیونس واپس آیا۔ وہ حکام کی جانب سے قانونی معافی کے اعلان سے مستفید ہونے والوں میں سے تھا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق الزواری کو جمعرات کے روز دوپہر دو بجے کے قریب ہلاک کیا گیا۔ وہ اپنے گھر کے سامنے جوں ہی اپنی گاڑی میں سوار ہوا اس کے برابر ایک ٹرک آ کر رکا جس میں موجود دو افراد نے الزواری پر اندھا دھند فائرنگ کر ڈالی۔ ہتھیاروں پر سائیلنسر لگے ہونے کی وجہ سے فائرنگ کی آواز نہیں سنی گئی۔ میڈیا کے مطابق الزواری کو 20 گولیاں ماری گئیں جن میں 12 اس کے جسم کے آر پار ہوگئیں جب کہ 8 جسم کے اندر باقی رہ گئیں۔ سر میں 3 گولیاں لگنے کی وجہ سے الزواری موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ اس دوران جائے واردات کے قریب ہی ایک ٹرک ، ایک گاڑی اور کارروائی میں استعمال کیا جانے والا اسلحہ مل گیا۔

تیونس میں عدالتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ 4 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

تحقیقات کے سلسلے میں عدلیہ حکام نے ایک شخص کی تصویر جاری کی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ بیلیجیئم کی شہریت رکھنے والے ایک مراکشی نژاد شخص کی ہے۔