.

حلب پر قبضے کے بعد جنرل سلیمانی کا شہر میں تازہ مٹر گشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر حلب میں ایرانی گماشتوں کے ہاتھوں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد ایرانی جنرل کھلے عام شہر میں گھوم رہے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ’القس فورس‘ کے سربراہ اور عرب ملکوں میں فوجی مداخلت کے منصوبہ ساز جنرل قاسم سلیمانی کی حلب میں مٹر گشت کی تازہ تصاویر شائع کی ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران نواز ملیشیاؤں نے حلب میں شہریوں کے انخلاء کے پروگرام میں رخنہ اندازی کی مجرمانہ سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔ گذشتہ روز بھی اسدی فورسز اور اس کی ایران نواز ملیشیا نے حلب میں چار شہریوں کو گولیاں مار کر قتل اور چھ افراد کو زخمی کردیا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مشرقی حلب سے قافلوں کی شکل میں نکل کر محفوظ مقامات کی طرف جانے والے لٹے پٹے شہریوں کو ایرانی اجرتی قاتلوں اور اسدی فوج کے گماشتوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ قافلوں میں شامل شہریوں کو یرغمال بنانے کی بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ روز ایک قافلے کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی اور فائرنگ کرکے چار افراد کو قتل کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ حلب میں انقلابی فورسز کے زیرکنٹرول علاقوں سے شہریوں کے انخلاء کا سلسلہ جمعہ کی شام اس وقت تعطل کا کا شکار ہوگیا جب حکومت نواز جنگجوؤں نے باغیوں کے زیرمحاصرہ الفوعہ اور کفریا قصبوں سے زخمیوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے کفریا اور الفوعہ شیعہ اکثریتی علاقوں سے زخمیوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کی تجویز تسلیم کرلی تھی۔

کل ہفتے کو شامی اپوزیشن میں شامل ’احرار الشام‘ گروپ کی طرف سے ایک صوتی پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں کہا تھا کہ تنظیم کا ایران اور روس کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت مشرقی حلب سے تنظیم سے وابستہ افراد اور شہریوں کو نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے گا۔ اس کے بدلے میں الفوعہ اور کفریا قصبوں کے ساتھ مضایا اور الزبدانی میں زخمیوں کو وہاں سے نکالنے کا موقع دیا جائے گا۔

1