.

شام: محصورین اور زخمیوں کو لینے کے لیے آنے والی متعدد بسیں نذرآتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب میں دو دیہات الفوعہ اور کفریا میں محصور شہریوں اور زخمیوں کو لے جانے کے لیے آنے والی متعدد بسوں کو حملہ کرکے جلا دیا گیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق اور شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ جبھۃ الفتح الشام نے ان بسوں پر حملہ کیا ہے۔حلب سے تعلق رکھنے والے باغی دھڑوں نے واقعے کی مذمت کی ہے۔

شامی کارکنان کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ فتح الشام کے جنگجوؤں نے پانچ بسوں کو نذرآتش کیا ہے۔ان بسوں کو شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع دو دیہات الفوعہ اور کفریا سے زخمیوں اور مریضوں کے انخلا کے لیے بھیجا گیا تھا۔

ان دونوں دیہات کا باغیوں نے محاصرہ کررکھا ہے۔ حلب سے تعلق رکھنے والے شامی باغیوں کے ایرانی ملیشیا اور روس کے ساتھ طے شدہ سمجھوتے کے تحت ان دونوں دیہات میں محصور دو ہزار سے زیادہ افراد اور زخمیوں کو نکالا جائے گا۔

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کا کہنا ہے کہ فتح الشام اور ایک باغی گروپ کے درمیان لڑائی کے دوران ان بسوں کو جلایا گیا ہے۔حزب اللہ کے میڈیا نے جلائی گئی بسوں کی تعداد پانچ جبکہ شامی رصدگاہ نے چھے بتائی ہے۔

حلب سے انخلا

شامی حکومت کے تحت میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ درجنوں بسیں اور ایمبولینس گاڑیاں شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے میں داخل ہوا چاہتی ہیں۔ان کے ذریعے باغی جنگجوؤں اور شہریوں کو نکالا جائے گا۔

حلب کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات کے بعد جمعہ کو شہریوں کا انخلا روک دیا گیا تھا۔شامی باغیوں کے گروپ احرارالشام کا ایرانی ملیشیا اور روس کے ساتھ ہفتے کو ایک سمجھوتا طے پایا تھا جس کے تحت مشرقی حلب میں محصور ہزاروں خواتین ،بچوں ،بیماروں اور زخمیوں کو نکالا جائے گا۔

اس کے تحت باغی جنگجو حلب کے مشرقی حصے کو خالی کردیں گے اور اس کے بدلے میں شامی حکومت چار قصبوں الفوعہ ،کفریا ،مضایا اور الزبدانی سے ماضی میں گرفتار کیے گئے باغی جنگجوؤں اور دیگر زخمی افراد کو رہا کردے گی۔