.

عدن میں داعش کے خود کش بم حملے میں 49 فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی شہر عدن میں ایک خودکش بم دھماکے میں انچاس فوجی ہلاک اور اسّی سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ جنگ زدہ ملک میں سخت گیر جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام ( داعش) سے وابستہ گروپ نے اس تباہ کن بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

یمنی حکام نے بتایا ہے کہ عدن کے شمال مشرق میں واقع علاقے خور مکسر میں الصولبان کے فوجی اڈے پر فوجی اپنی تنخواہیں وصول کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔اس دوران حملہ آور بمبار نے ان کے درمیان گھس کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

عدن میں وزارت صحت کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ بم دھماکے میں چوراسی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ داعش سے وابستہ یمنی گروپ نے اعماق نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں اس تباہ کن بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس نے حملہ آور کی شناخت ابو ہاشم الردفانی کے نام سے کی ہے اور اس کی ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں وہ داعش کے سیاہ پرچم تلے سفید جیکٹ پہنے کھڑا نظرآرہا ہے۔ اس نے بم دھماکے کے بعد کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس میں ستر افراد مارے گئے ہیں لیکن ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

اس حملے سے آٹھ روز قبل عدن کے اس فوجی اڈے پر اسی انداز میں خودکش بم حملے میں اڑتالیس فوجی ہلاک اور انتیس زخمی ہوگئے تھے۔اس بم دھماکے کی بھی داعش نے ذمے داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ ایک نامعلوم حملہ آور نے کیمپ کے مرکزی دروازے پر اپنی تن خواہیں وصول کرنے کے لیے جمع فوجیوں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑایا تھا۔

یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ اور داعش سے وابستہ جنگجو ماضی میں متعدد مرتبہ عدن میں بم حملوں کی ذمے داری قبول کرچکے ہیں لیکن القاعدہ نے 10 دسمبر کے بم دھماکے سے لاتعلقی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ امریکیوں یا ان کے اتحادیوں کے خلاف لڑنے والے مسلمانوں کا خون نہیں بہاتی ہے۔

واضح رہے کہ ستمبر 2014ء میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے یمنی دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد سے صدر عبد ربہ منصور ہادی اور ان کے وزراء عدن سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نظم ونسق چلا رہے ہیں اور انھوں نے اس شہر کو یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا عارضی دارالحکومت قرار دے رکھا ہے۔ تاہم شہر میں بد امنی کی وجہ سے صدر منصور ہادی اور ان کی حکومت کے دوسرے اعلیٰ عہدے دار اپنا زیادہ تر وقت سعودی دارالحکومت الریاض میں گزار رہے ہیں۔