.

"حلب حملے" میں شریک عراقی ملیشیا کے سرغنہ سے خامنہ ای کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی شیعہ ملیشیا "حرکت النجباء" کی ویب سائٹ نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ ملیشیا کے سکریٹری جنرل اکرم الکعبی نے ایران کے مرشد اعلی علی خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق اکرم الکعبی اور دیگر شخصیات کی تہران میں "وحدت اسلامی کانفرنس" کے ضمن میں ایرانی سپریم لیڈر سے اجتماعی ملاقات کے اختتام پر الکعبی نے خامنہ ای سے تبادلہ خیال کیا۔ تاہم ویب سائٹ کی خبر میں بات چیت کے موضوع اور اس کا دورانیے کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

کانفرنس میں بشار الاسد کا نمک خوار مفتی احمد بدرالدین حسون بھی شریک تھا جس نے اپنے خطاب میں شامی عوام کے خلاف جنگ میں بشار حکومت کے واسطے ایرانیوں کی سپورٹ پر گہرے تشکر کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ الکعبی نے کچھ روز قبل شام کے صوبے ادلب میں واقع دو دیہات "كفريا اور فوعا" کے اہلیان کے نام ایک خط ارسال کیا تھا جس میں تفرقے کی عبارتیں استعمال کرتے ہوئے گھناؤنا فرقہ وارانہ فتنہ بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔

"حرکت النجباء" کی ویب سائٹ کی جانب سے جاری تصاویر میں تحریک کے سربراہ کو ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے ہمراہ دکھایا گیا ہے۔

شیعہ شدت پسند تحریک "حرکت النجباء" شام میں بشار حکومت کے مفاد میں لڑ رہی ہے اور ساتھ ہی اپنے ذرائع ابلاغ اور متعلقہ عناصر کے ذریعے شام میں فرقہ واریت اور اشتعال انگیزی پھیلانے میں مصروف ہے۔

اس سے قبل تحریک نے ایک سرکاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے حالیہ عرصے کے دوران شام کے محصور شہر حلب کے بعض علاقوں پر حملوں میں شرکت کی تھی۔ تحریک کا سرغنہ الکعبی شیعہ لبنانی شدت پسند تنظیم "حزب اللہ" کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتا ہے اور دونوں کے درمیان اعلانیہ اور غیر اعلانیہ متعدد ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں۔

تہران میں جمعے کے خطیب محمد امامی کاشانی نے اپنے خطبے میں حلب میں کامیابی پر "مبارک باد" پیش کی تھی۔ کاشانی نے تہنیتی پیغام میں کہا کہ "حلب میں مسلمانوں کو کفار پر فتح حاصل ہوئی"۔ ایرانی میڈیا میں جمعے اور ہفتے کے روز مسلسل طور پر اس خبر کو نمایاں حیثیت دی گئی۔