.

تعطل کے بعد حلب سے شہریوں کے انخلاء کا دوبارہ آغاز

پانچ بسوں کا قافلہ ساڑھے 400 افراد کو لے کرمغربی حلب پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنگ زدہ شہر حلب میں چند روزہ تعطل کے بعد شہریوں کے انخلاء کا عمل دوبارہ شرو ہوگیا ہے. 'العربیہ‘ کے نامہ نگاروں کے مطابق شہریوں کو محفوظ مقامات تک لے جانے کے لیے پانچ بسوں کا ایک قافلہ حلب پہنچا ہے۔

شام میں رضا کار ڈاکٹر یونٹ کے چیئرمین احمد الدبیس نے بتایا کہ مغربی حلب میں باغیوں کے زیرکنٹرول خان العسل میں پانچ زخمیوں سمیت 400 شہریوں کو پہنچایا گیا ہے۔ خان العسل میں لائے گئے شہری مشرقی حلب سے گذشتہ روز بسوں سے وہاں منتقل کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ بسیں شہریوں کو لے کر باغیوں کے علاقے خان العسل پہنچی ہیں جس کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ حلب اور ادلب میں حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں کی جانب سفر کریں گی۔

اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ مشرقی حلب سے باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں سے بسوں اور ایمبولینسز کے ذریعے شہریوں کا انخلا دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق شہریوں کو لے کر بسوں اور ایمبولینسز نے مشرقی حلب سے باہر نکلنا شروع کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے خبر رساں ایجنسی ’رائیٹرز‘ کو ای میل پیغام میں بتایا 'مشرقی حلب سے پہلا قافلہ رات کو روانہ ہوا۔'

اطلاعات کے مطابق کم سے کم 400 افراد پر مشمل قافلوں نے باغیوں کے محصور علاقے کو چھوڑ دیا ہے اور وہ مغرب کی جانب حکومتی علاقے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اس سے پہلے حلب میں حکومت مخالف باغیوں نے شہریوں کے انخلا کے لیے جانے والی کئی بسوں کو نذر آتش کر دیا تھا جس کے بعد انخلا کا عمل رک گیا تھا۔

مشرقی حلب میں ہزاروں شہری انتہائی نامناسب حالات میں وہاں سے نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

مشرقی حلب سے انخلا کا ابتدائی معاہدہ جمعہ کو ختم کر دیا گیا تھا جس کے باعث مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں شہری بے خوراک اور رہائشی سہولیات کے بغیر پھنس کر رہ گئے تھے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے’سیرین آبزرویٹر فار ہیومن رائٹس‘ کی جانب س جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ادلب میں بسوں کو نذرآتش کیے جانے کے بعد حلب سے انخلاء کاعمل تا اطلاع ثانی ملتوی کردیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ حلب سے شہریوں کے انخلاء کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی ضمانتوں کے حصول یا غیر جانب دار مبصرین کی تعیناتی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ادلب کے شیعہ اکثریتی علاقوں کفریا اور الفوعہ سے حکومت کے حامیوں کو نکالنے کے لیے آنے والی کوئی20 بسوں کو نذرآتش کردیا تھا۔ بسوں کو نذرآتش کرنے کی ذمہ داری’سرایا التوحید‘ نامی ایک گم نام گروپ نے قبول کی ہے۔ یہ گروپ پہلی بار سامنے آیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ادلب میں سرایا التوحید نامی کسی گروپ کا وجود نہیں۔ یہ فرضی نام اپوزیشن کی اتحادی فتح الشام [سابقہ النصرہ فرنٹ] کا ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ حلب سے انخلا کے ابتدائی معاہدے کو جمعے کو ختم کر دیا گیا تھا جس کے باعث مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں شہریوں کی خوراک یا پناہ گاہ تک رسائی ختم ہو گئی تھی اور وہ وہاں پھنس کر رہ گئے تھے۔