.

حلب سے محصور مکینوں کے انخلا کے آخری مرحلے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے سے ایک روز کے وقفے کے بعد محصور مکینوں کو نکالنے کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔انھیں بسوں کے ذریعے شہر سے باہر منتقل کیا جارہا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں محاصرہ زدہ مشرقی حلب سے انخلا کے آخری مرحلے کے آغاز کی تصدیق کی ہے۔

اس نے بتایا ہے کہ بسوں کا قافلہ مکینوں کو لینے کے لیے منگل کو خراب موسمی حالات میں مشرقی حلب کے باقی ماندہ علاقوں میں داخل ہوا تھا۔ان میں سے بعض پر لوگ سوار بھی ہوگئے تھے لیکن یہ قافلہ وہاں سے روانہ نہیں ہو سکا تھا۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ حکومت کے زیر قبضہ دو دیہات الفوعہ اور کفریا سے حلب آنے والی آٹھ بسیں بھی راستے میں رکی ہوئی ہیں۔ صوبہ ادلب میں واقع ان دونوں دیہات کا شامی باغیوں نے محاصرہ کررکھا ہے جبکہ ان پر حکومت کا کنٹرول ہے۔حکومتی فورسز کا یہ اصرار رہا ہے کہ مشرقی حلب سے انخلا کے سمجھوتے کے تحت ان دونوں دیہات کے مکینوں کو بھی نکالا جانا چاہیے۔

شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں مشرقی حلب کا گذشتہ کئی ماہ سے محاصرہ کررکھا ہے۔جنگ بندی سمجھوتے کے تحت وہاں سے باغی جنگجوؤں اور مکینوں کو نکالا جارہا ہے۔بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے مطابق حلب سے اب تک قریباً پچیس ہزار شہریوں کو نکال لیا گیا ہے۔یہ عالمی ایجنسی شہریوں کے انخلا میں مدد دے رہی ہے۔اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار کے مطابق الفوعہ اور کفریا سے اب تک قریباً ساڑھے سات سو افراد کو نکالا گیا ہے۔