.

قاسم سلیمانی.. شام میں جرائم کی ایک تاریخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے عسکری ونگ "القدس فورس" کا کمانڈر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی گزشتہ 5 برسوں سے شام میں ایرانی فورسز اور اس کے زیر انتظام شیعہ ملیشیاؤں کے درمیان کو آرڈی نیٹر اور نگرانِ عام کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ امریکا نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ شام کے صوبے حلب میں سلیمانی کی موجودگی کا معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

شام میں سلیمانی کے جرائم کے سلسلے کا آغاز پُر امن شامی انقلابی تحریک کی ابتدا سے ہوا۔ وہ اس تحریک کو کچلنے کے لیے بشار حکومت کی جانب سے خونی کریک ڈاؤن میں شریک رہا۔ امریکا نے 18 مئی 2011 کو بشار الاسد اور دیگر سینئر شامی ذمے داران کے ساتھ قاسم سلیمانی پر بھی پابندیاں عائد کر دیں۔ سلیمانی کو معروف دہشت گرد قرار دے کر کسی بھی امریکی شہری کا اس کے ساتھ لین دین ممنوع ہو گیا۔

24 جون 2011 کو یورپی یونین نے انقلابی تحریک کو کچلنے کے لیے شامی فوج کی معاونت کرنے پر قاسم سلیمانی اور ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد علی جعفری کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ سوئس حکومت نے بھی ستمبر 2011 میں ان ہی وجوہات کی بنا پر سلیمانی پر پابندیاں عائد کر دیں۔

اقوام متحدہ نے شامی حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے اور شام میں ایرانی مداخلت کے سبب اگست 2012 میں اپنی قرار داد نمبر 1747 کے ذریعے سلیمانی کا نام پابندیوں کا سامنا کرنے والے افراد میں شامل کر لیا۔

القدس فورس کا یہ کمانڈر 2012 سے شام میں ہونے والے معرکوں میں پاسداران انقلاب ، حزب اللہ اور عراقی ملیشیاؤں کی مداخلت کے انتظامی امور میں بھرپور انداز سے شریک رہا۔

اس نے لاذقیہ اور حلب کے نواح میں متعدد معرکوں کی خود نگرانی کی۔ اس میں تازہ ترین حلب کی لڑائیاں بھی شامل ہیں جن کے نتیجے میں لاکھوں شامی جبری ہجرت پر مجبور ہو گئے۔ سلیمانی اس وقت حلب اور شام کے بقیہ صوبوں میں آبادیاتی تبدیلی کی کارروائیوں کی قیادت کر رہا ہے۔

سلیمانی عراقی ، افغانی ، پاکستانی اور لبنانی فرقہ ورانہ ملیشیاؤں کے تقریبا 70 ہزار ارکان کو شام لایا۔ ان عناصر نے شامی عوام کے انقلاب کو ایرانی رسوخ کی توسیع کے مفاد میں فرقہ ورانہ جنگ میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سیاسی کردار

قاسم سلیمانی ایران کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کے خدوخال تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پالیسی کی بنیاد ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی براہ راست سپورٹ کے ذریعے ولایتِ فقیہ کی ریاست کے رسوخ میں توسیع ہے۔

ایرانی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سلیمانی کو آج ایران میں "ولایت فقیہ کی ریاست کی علامت" شمار کیا جاتا ہے۔ ریاست پر خامنہ ای کا کنٹرول ہے جب کہ ریاست میں بنیادی اداروں مثلا مجلس خبرگان رہبری ، پارلیمنٹ ، شوری نگہبان ، عدلیہ اور بڑے مالی اور اقتصادی اداروں پر سخت گیر مذہبی شخصیات ، پاسداران انقلاب ، القدس فورس اور دیگر مربوط پریشر گروپوں کی قیادت کا عملی قبضہ ہے۔

ستمبر میں مجلس خبرگان رہبری سے خطاب کرتے ہوئے سلیمانی کا کہنا تھا کہ " ہمیں دشمن کی جانب سے چلائی جانے والی پروپیگنڈا مہم کی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ شام مزاحمت کے لیے فرنٹ لائن کی حیثیت رکھتا ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کا دفاع ہم پر لازم ہے"۔

عسکری زندگی کا آغاز کیسے ہوا ؟

قاسم سلیمانی 11 مارچ 1957 کو ایران کے جنوب مشرقی صوبے کرمان کے گاؤں رابر میں پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ایک غریب کسان گھرانے سے تھا اور وہ انٹرمیڈیٹ سے آگے تعلیم نہیں حاصل کر سکا۔ وہ 1979 تک کرمان کی بلدیہ کے پانی کے محکمے میں کام کرتا رہا۔ 1979 میں خمینی کے انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ پاسداران انقلاب میں شامل ہو گیا۔

سلیمانی نے اپنی عسکری زندگی کا آغاز 1979 میں مہا آباد کے محاذ پر کردوں کی مزاحمت کو کچلنے کی کارروائی میں شریک ہو کر کیا۔ اگلے برس وہ پاسداران انقلاب میں شامل ہو کر رضاکارانہ طور پر ایران عراق جنگ میں شرکت کے لیے پیش ہو گیا۔

القدس فورس کی قیادت اور طلبہ تحریک کو کچلنا

1998 میں سلیمانی نے بیرون ملک کارروائیوں کے لیے پاسداران انقلاب کے عسکری ونگ "القدس فورس" کی قیادت سنبھالی۔ اس کے ایک برس بعد جولائی 1999 میں وہ طلبہ تحریک کو کچلنے کی کارروائی میں شریک ہوا۔ اس کے علاوہ 2009 میں گرین موومنٹ کی احتجاجی تحریک کے خلاف بزور طاقت کیے جانے والے خونی کریک ڈاؤن میں بھی پیش پیش رہا۔

امریکی اخبار "نیویارکر" کی رپورٹ کے مطابق القدس فورس کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے سلیمانی ایران کے مفاد میں مشرق وسطی کی تشکیل نو کے لیے کوشاں ہے۔ اس نے سیاسی فیصلے کرتے ہوئے یہ طریقہ اپنایا کہ "مخاصم کو ہلاک اور حلیف کو مسلح کیا جائے"۔

جنرل کے جرائم

گزرتے وقت کے ساتھ سلیمانی نے بین الاقوامی نیٹ ورک تشکیل دیا۔ ان میں ایک طرف وہ ملک تھے جن کو برے وقتوں میں مدد کے لیے بلایا جا سکتا تھا اور دوسری طرف لبنانی حزب الله اور پاسداران انقلاب کے زیر انتظام عراقی ملیشیائیں تھیں جن کو بیرون ملک اپوزیشن کی شخصیات کا کام تمام کرنے اور عرب اور مغربی ممالک میں اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

2010 میں "حزب الله" اور "القدس فورس" نے امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف ایک نئی مہم کا اغاز کیا۔ غالبا یہ ایرانی نیوکلیئر پرگرام کے خلاف مہم کے خلاف تھی جس کے دوران انٹرنیٹ کے ذریعے ہیکروں کے حملے اور ایرانی نیوکلیئر سائنس دانوں کو ہلاک کرنے کی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔

اس کے بعد سلیمانی نے 2012 اور 2013 میں صرف دو سالوں کے دوران تھائی لینڈ ، نئی دہلی ، لاگوس اور نیروبی وغیرہ میں حملوں کی کم از کم 30 کوششوں کو منظم کیا۔

اس سلسلے میں القدس فوس کی معروف ترین کوشش 2011 میں کی جانے والی سازش تھی۔ اس کے تحت مالی رقم کے عوض ایک نیٹ ورک کی خدمات حاصل کی گئیں جس کو امریکا میں سعودی عرب کے سابق سفیر عادل الجبیر (موجودہ وزیر خارجہ) کو ہلاک کرنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ کارروائی پر اس وقت عمل درامد ہونا تھا جب الجبیر وہائٹ ہاؤس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ریستوران میں کھانا کھا رہے تھے۔

حزب اللہ کو مضبوط بنانے میں کردار

قاسم سلیمانی نے سال 2000 سے حزب اللہ کی قیادت جس میں عماد مغنیہ ، مصطفی بدرالدین اور حسن نصر اللہ شامل تھے ، ان کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنائے۔ بالخصوص 2011 میں شام میں بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لیے مداخلت کے موقع پر حزب اللہ کو میزائل فراہم کرنے میں سلیمانی کا بنیادی کردار رہا۔

جہاں تک عراق کا تعلق ہے تو وہاں سلیمانی نے بغداد میں حکومتی قائدین کے ذریعے سیاسی ، سکیورٹی اور عسکری امور کا مکمل طور کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس سلسلے میں بغداد میں حکمراں اتحاد میں شامل ایران کی حلیف سیاسی جماعتوں اور پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کو استعمال میں لایا گیا۔ موبیلائزیشن ملیشیا کی تاسیس اور تربیت میں تہران کا بھرپور کردار رہا۔