.

موبیلائزیشن ملیشیا کا شام میں لڑنا ہماری نمائندگی نہیں : عراقی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے ایک حیران کن بیان میں کہا ہے کہ شام میں لڑنے والی کوئی بھی فورس ان کے ملک کی نمائندگی نہیں کرتی۔ انہوں نے باور کرایا کہ عراق علاقائی تنازعوں کا حصے دار نہیں بننا چاہتا۔

العبادی نے یہ بات منگل کے روز بغداد میں کابینہ کے اجلاس کے بعد ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

العبادی نے پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا کے پرچم تلے تمام گروپوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت سے متعلق عراقی حکومت کی پالیسی کی پاسداری کریں۔

واضح رہے کہ عراقی پارلیمنٹ نے 29 نومبر کو ایک قانون کے ذریعے موبیلائزیشن ملیشیا کو عراقی فوج میں ضم کر دیا تھا۔ اس موقع پر ایاد علاوی کی سربراہی میں 89 ارکان پارلیمنٹ رائے شماری سے دست بردار ہو گئے تھے تاہم اس کے باوجود پارلیمنٹ نے مذکورہ قانون سے متعلق بل کو منظور کر لیا۔ ووٹنگ میں 230 ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا جس کے بعد اس کے اکثریت کے ساتھ منظور کر لیے جانے کا اعلان کر دیا گیا۔

داعش نے دھماکا خیز مواد سے بھری 900 گاڑیاں استعمال کیں

حیدر العبادی کا مزید کہنا تھا کہ داعش تنظیم کے خلاف عراقی فورسز کی پیش قدمی کے باعث آج کا عراق ماضی سے زیادہ مضبوط ہے۔ انہوں نے بعض مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں پھیلی ان خبروں کی یکسر تردید کی جس میں کہا جا رہا ہے کہ موصل میں عسکری کارروائیوں کو روک دیا گیا ہے۔ العبادی کے مطابق نینوی صوبے کو واپس لیے جانے کے واسطے کیے جانے والے فوجی آپریشن کے دوران داعش تنظیم نے گولہ بارود سے بھری 900 کے قریب گاڑیاں استعمال کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس میدان میں داعش کی صلاحیت میں کمی ہونا شروع ہوگئی ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر العبادی نے زور دے کے کہا کہ عراق کو سماجی مصالحت کی ضرورت ہے تاہم اس عراقی شہروں کو داعش سے واپس لیے جانے کے بعد اس پر غور کیا جائے گا۔