.

موصل : داعش کے پسپائی کے دوران شہریوں پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں عراقی فورسز کی پیش قدمی کے بعد داعش کے جنگجو پسپائی کے دوران اپنا ساتھ نہ دینے والے شہریوں کو حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ بات انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے بدھ کو ایک بیان میں کہی ہے۔تنظیم نے کہا ہے کہ عراقی فورسز اور داعش کے درمیان لڑائی میں عام عراقی شہری نشانہ بن رہے ہیں اور نومبر کے تیسرے ہفتے سے دسمبر کے پہلے ہفتے کے درمیانی عرصے میں انیس شہری ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔

تنظیم نے بتایا ہے کہ یہ ہلاکتیں داعش کے مارٹر حملوں ،گھات لگا کر فائرنگ ،کار بم حملوں ،سڑک کے کنارے نصب بموں کے دھماکوں اور براہ راست حملوں کے علاوہ عراقی فورسز اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں میں ہوئی ہیں۔نیو یارک میں قائم تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے موصل کے مشرقی حصے سے گھر بار چھوڑ کر آنے والے پچاس سے زیادہ مکینوں کے انٹرویوز کیے ہیں اور ان کی بنیاد پر یہ نتائج اخذ کیے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے شہر کے مکینوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ جو کوئی پیچھے رہے گا یا گھر بیٹھا رہے گا،وہ ''کافر'' ہی ہوگا اور وہ ان کا جائز ہدف ہوگا۔موصل کے ایسے مکین اب داعش کے علاوہ عراقی اور اتحادی فورسز کی بمباری کا بھی نشانہ بن رہے ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو نے خبردار کیا ہے کہ شہریوں کو حملوں میں ہدف بنانا یا انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ایک جنگی جرم ہے۔اس نے طرفین سے اپیل کی ہے کہ وہ شہریوں کو معاف رکھیں اور ان کے جان ومال کا تحفظ کریں۔

تنظیم کی مشرق وسطیٰ میں ڈائریکٹر لاما فکیہ کا کہنا ہے کہ ''موصل میں شہریوں کو تمام اطراف سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔داعش گروپ کے مظالم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عراقی فورسز اور بین الاقوامی اتحاد شہریوں کے تحفظ ہی سے دستبردار ہوجائے''۔

امریکا کی قیادت میں اتحاد اور عراقی فورسز نے 17 اکتوبر کو موصل سے داعش کو نکال باہر کرنے کے لیے بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔عراقی فورسز نے موصل کے مضافات پر قبضے کے بعد اب شہر کا شمال ،مشرق اور جنوب کی جانب سے محاصرہ کررکھا ہے جبکہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی نے مغرب کی جانب سے شہر کو بند کردیا ہے۔قبل ازیں انھوں نے شام سے موصل کی جانب آنے والی شاہراہ کو منقطع کردیا تھا۔یہ داعش کے لیے سامان رسد پہنچانے کی واحد گذرگاہ تھی۔اب شہر میں سامان رسد پہنچانے کے تمام راستے منقطع یا مسدود ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ موصل کے محاصرے کے بعد سے غریب خاندان خاص طور پر سخت مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے ان کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔شہر کے گنجان آباد علاقوں میں داخل ہونے کے بعد سے عراقی فوجیوں کی پیش قدمی سست ہوچکی ہے اور وہ مبینہ طور پر شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔