.

اسد رجیم کے 6 وزراء اور روسی بنک کاروں پر امریکی پابندیاں

شام میں جرائم کے ارتکاب پر امریکا کا جوابی اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی حکومت نے شام میں صدر بشارالاسد کی قیادت میں جنگی جرائم اور شہریوں کے خلاف پرتشدد ہتھکنڈوں کے استعمال کے الزام میں چھے وزراء کو بلیک لسٹ کردیا ہے اور روس کے نو بنک کاروں پر بھی پابندیاں عاید کردی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے روس کے ’ٹمبنک‘ نامی بنک کے 9 عہدہ داروں کو بھی شام میں جرائم میں مدد دینے کے الزام میں بلیک لسٹ کیا ہے۔ اب اگر کوئی امریکی کمپنی، شخص یا ادارہ شامی حکومت کے بلیک لسٹ وزراء یا روسی بنک کاروں کے ساتھ تجارتی لین دین کرے گا تو اسے امریکا میں سخت نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزارت خزانہ نے روسی بنک پر شام میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے لیےاسد رجیم کو مالی مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کا الزام عاید کیا ہےاور اسی الزام کے تحت ’ٹمبنک‘ کے عہدہ داروں ، شام کے مرکزی بنک اور شام کی سرکاری پٹرولیم کمپنی کےساتھ لین دین پر بھی پابندی عاید کی ہے۔

روس کے خلاف امریکی اقدام

امریکی حکومت نے شام میں مبینہ جنگی جرائم میں مدد دینے پر روس کی نو شخصیات کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ ان میں تین ارکان پارلیمان، روس کے مرکزی بنک کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر اور بنک کی گورننگ باڈی کے پانچ ارکان شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق اس بنک کی بنیاد سنہ 1989ء میں رکھی گئی تھی۔ اس بنک کے زیادہ تر شیئرحکومت کے پاس ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے اقدام کو روسی بنک کاروں کے خلاف کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ واشنگٹن ماسکو پر شام میں اپوزیشن کو کچلنے میں بشارالاسد کی حکومت کو ہر طرح سے مدد کرنے کا الزام عاید کرتا چلا آیاہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی شام میں مداخلت داعش کے خلاف نہیں بلکہ بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی انقلاب کی تحریک کو کچلنے کے لیےا ہے۔ شام کے معاملے میں امریکی کردار واضح نہیں۔ حال ہی میں جنگ زدہ حلب میں جنگ بندی میں روس، ایران اور ترکی نے مشترکہ معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے میں امریکا شامل نہیں تھا۔

بشارالاسد کے معاونین

شام کے متنازع صدر بشارالاسد کے جن معاونین کو امریکی حکومت نے پابندیوں کی نئی قسط میں بلیک لسٹ کیا ہے،ان میں سات اہم شخصیات شامل ہیں۔ان میں مرکزی بنک کے گورنر درید ضرغام اور چھے وزراء وزیر خزانہ مامون حمدان، وزیر برائے پٹرولیم علی غانم، وزیر مواصلات علی الظافر، وزیراطلاعات محمد رامز ترجمان، وزیر صنعت احمد الحمو اور وزیر برائے ٹرانسپورٹ علی حمو شامل ہیں۔

محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت کے عہدہ داروں کے خلاف تازہ پابندیاں ملک میں جنگی جرائم کے فروغ اور نہتے شہریوں کے خلاف پرتشدد ہتھکنڈے استعمال کرنے پر عاید کی گئی ہیں۔

نئی پابندیوں میں ’شام ونگ‘ نامی کمپنی بھی شامل ہے۔ یہ فرم شامی فوج کو ایرانی اسلحہ اور دیگر سامان کی فراہمی میں ملوث بتائی جاتی ہے۔پابندیوں کی زد میں آنے والے شامی اداروں میں شام کی سیریس لاجسٹک کمپنی، یونی اسٹار، الحصن اور لبنان کی ٹیکنالوب بھی شامل ہیں۔