.

مشرقِ وسطیٰ میں ایک مرتبہ پھر تشدد کے سائے میں کرسمس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں عیسائی برادری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یوم پیدائش (کرسمس) مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے خطے میں اس مرتبہ بھی عیسائی تشدد کے سائے میں کرسمس کی تقریبات میں شریک ہو رہے ہیں کیونکہ خطے کے دو بڑے شہروں موصل اور حلب میں لڑائی جاری ہے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عیسائیوں اور مسلمانوں کو اسرائیلی مظالم کا سامنا ہے۔

کرسمس کی سب سے بڑی تقریب مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں ہفتے اور اتوار کی شب منعقد کی جارہی ہے۔ شہر کے مینجر اسکوائر میں ہزاروں عیسائی جمع ہوئے ہیں۔اس شہر میں واقع چرچ آف نیٹویٹی کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہیں پیدا ہوئے تھے۔

اس سال 2015ء کی نسبت فلسطینی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے،اس لیے کرسمس کی تقریبات میں عیسائیوں کی زیادہ تعداد میں شرکت متوقع ہے لیکن ایک روز قبل ہی اسرائیلی فوجیوں نے بیت لحم میں سانتا کلاز کا روپ دھار کر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔

ذیل میں پوسٹ کی گئی تصاویر سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کا شکار شہروں میں عیسائی کرسمس کس طرح منارہے ہیں۔

بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات کے شرکاء
بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات کے شرکاء
مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں گذشتہ برسوں کی طرح اس مرتبہ بھی اسرائیلی فورسز نے کرسمس پر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں گذشتہ برسوں کی طرح اس مرتبہ بھی اسرائیلی فورسز نے کرسمس پر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
بیت لحم میں سانتا کلاز کا لباس پہنے فلسطینی مظاہرین کی اسرائیلی پولیس اہلکار کے ساتھ جھڑپ کے دوران توتکار ہورہی ہے۔
بیت لحم میں سانتا کلاز کا لباس پہنے فلسطینی مظاہرین کی اسرائیلی پولیس اہلکار کے ساتھ جھڑپ کے دوران توتکار ہورہی ہے۔
حلب سے تعلق رکھنے والی ایک شامی مہاجر خاتون اپنے بیٹے کی سانتا کلاز کا روپ دھارنے والے لبنانی رضاکار کے ساتھ تصویر بنا رہی ہے۔
حلب سے تعلق رکھنے والی ایک شامی مہاجر خاتون اپنے بیٹے کی سانتا کلاز کا روپ دھارنے والے لبنانی رضاکار کے ساتھ تصویر بنا رہی ہے۔
آبادی کے ماہر فیبرک بلانش کے مطابق حلب میں اس وقت صرف ایک لاکھ عیسائی مقیم رہ گئے ہیں۔جنگ سے قبل شام کے اس سب سے بڑے شہر میں عیسائیوں کی تعداد ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ تھی۔
آبادی کے ماہر فیبرک بلانش کے مطابق حلب میں اس وقت صرف ایک لاکھ عیسائی مقیم رہ گئے ہیں۔جنگ سے قبل شام کے اس سب سے بڑے شہر میں عیسائیوں کی تعداد ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ تھی۔
عراق کے خودمختار علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں ایک کیمپ میں مقیم عیسائیوں کی مشترکہ تصاویر۔ وہ موصل پر سنہ 2014ء میں داعش کی یلغار کے بعد بے گھر ہوگئے تھے۔
عراق کے خودمختار علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں ایک کیمپ میں مقیم عیسائیوں کی مشترکہ تصاویر۔ وہ موصل پر سنہ 2014ء میں داعش کی یلغار کے بعد بے گھر ہوگئے تھے۔