.

یہودی بستیوں کے خلاف سلامتی کونسل کا فیصلہ منظور نہیں : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مںظور کردہ قرار داد کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔اس قرارداد میں فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کی تعمیر روک دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

صہیونی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیل اپنے خلاف اقوام متحدہ کے اس معاندانہ اور شرم ناک فیصلے کو مسترد کرتا ہے اور اس کو کسی طور تسلیم نہیں کرے گا"۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ " اوباما انتظامیہ نہ صرف اقوام متحدہ میں اس ٹولے سے اسرائیل کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی بلکہ پس پردہ اس ساز باز میں شامل ہے"۔

بیان کے مطابق اسرائیل اس بے ہودہ قرارداد کے نقصان دہ اثرات کو ختم کرنے کے لیے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس میں اپنے تمام ری پبلکن اور ڈیموکریٹک دوستوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید رکھتا ہے۔

سلامتی کونسل نے جمعے کے روز منظور کردہ قرارداد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی اراضی پر یہودی بستیوں کی آبادکاری کا سلسلہ روک دے۔ سلامتی کونسل کے کُل 15 ارکان میں سے 14 نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جب کہ امریکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

قرارداد یہودی عوام کے خلاف ؟

اسرائیلی وزیر توانائی یووال اشٹائینٹز کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیلی بستیوں کے خلاف سلامتی کونسل کی رائے شماری میں حصہ نہ لے کر شاید "مشرق وسطیٰ میں اپنے واحد دوست سے دست برداری" کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی ٹیلی وژن چینل 2 سے گفتگو کرتے ہوئے یووال نے کہا کہ "یہ فیصلہ یہودیوں کی آباد کاری کے خلاف نہیں بلکہ اسرائیل اور یہودی عوام کے خلاف ہے"۔

یووال کے مطابق " یہ افسوس ناک امر ہے کہ (باراک اوباما کی امریکی) حکومت کے ساتھ آٹھ سالہ دوستی کے بعد ، جس میں ایران کے معاملے پر اختلافات بھی سامنے آئے، اب ہم آخر میں ہم اس معاندانہ کارروائی پر پہنچ گئے"۔

اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن کے مطابق ان کے ملک کو توقع تھی کہ امریکا "اس قابل شرم قرار داد کے خلاف" اپنا ویٹو کا حق استعمال کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ " مجھے یقین ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اور (اقوام متحدہ کے) نئے سکریٹری جنرل اقوام متحدہ اور اسرائیل کے درمیان تعلق کے حوالے سے نئے مرحلے کا آغاز کریں گے"۔

فلسطینیوں کی "فتح کا دن"

دوسری جانب سینئر فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر روک دینے کے حوالے سے رائے شماری درحقیقت "فتح کا دن" ہے۔

ایک غیرملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے عریقات نے کہا کہ "یہ بین الاقوامی قانون کی فتح کا دن ہے. یہ مہذب زبان اور مذاکرات کی فتح ہے اور اسرائیل میں شدت پسند طاقتوں کا مسترد کیا جانا ہے"۔

عریقات کے مطابق عالمی برادری نے اسرائیلی عوام کو بتا دیا ہے کہ امن اور سلامتی کو غصب اور قبضے کے ذریعے یقینی نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اس کا راستہ قبضے کا خاتمہ اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق اسرائیلی ریاست کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا ہے سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر روکنے کے مطالبے سے متعلق قرارداد کا منظور ہونا درحقیقت اسرائیلی پالیسی کے مُنہ پر ایک "طمانچا" ہے۔ فلسطینی نیوز ایجنسی وفا (WAFA) کے مطابق صدارتی ترجمان نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد.. بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی بستیوں کی مکمل متقفہ مذمت اور تنازعے کے دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کی مظہر ہے۔

اسرائیل کا امن

ادھر سلامتی کونسل میں امریکا کی مندوب نے کہا ہے کہ "ہم اسرائیل کی سلامتی کے پابند ہیں۔ ہم نے رائے شماری میں شریک ہونے سے اس لیے انکار کر دیا کیوں کہ اس کا تعلق صرف بستیوں کی تعمیر سے تھا"۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل بستیوں کی تعمیر کو قانونی قرار دیے جانے کی کوشش کر رہا ہے اور اوسلو معاہدے پر دستخط کے بعد سے بستیوں کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر توسیع دیکھنے میں آئی ہے۔

دوسری طرف امریکی ایوانِ نمائندگان نے رائے شماری میں اپنے ملک کے شریک نہ ہونے کی مذمت کی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ بستیوں کی تعمیر میں تیزی کے وتیرے نے دو ریاستی حل کے امکان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔