.

حلب میں "ثقافتی فتح" حاصل ہوئی : ایرانی خطیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" کے مطابق تہران میں ایک ایرانی خطیب آیت اللہ کاظم صدیقی نے جمعے کے خطبے میں کہا کہ " اہلِ بیت کے مزاروں کا دفاع کرنے والوں" کی مہربانی سے حلب کو "آزاد" کرا لیا گیا ہے۔ کاظم نے باور کرایا کہ حلب میں محض عسکری کامیابی نہیں بلکہ " ثقافتی فتح " بھی حاصل ہوئی ہے۔ کاظم صدیقی نے حلب میں حاصل ہونے والی کامیابی کو "اسلامی اور انقلابی" قرار دیا۔

اس سے قبل تہران میں آیت اللہ محمد امامی کاشانی نے سولہ دسمبر کو جمعے کے خطبے میں کہا تھا کہ حلب میں مسلمانوں نے "کفار پر کامیابی حاصل کی"۔ ان بیانات سے شام میں ایرانی مداخلت کا مقصود اور اس کے اسباب واضح ہوجاتے ہیں۔

ادھر "الوفاق" ویب سائٹ نے عراقی سخت گیر ملیشیا "حرکت النجباء" کے سربراہ اکرم الکعبی کے ساتھ گفتگو کی تھی جس میں الکعبی نے اپنے جنگجوؤں کو بھرپور انداز سے سراہا۔ مذکورہ ملیشیا حلب شہر پر حملے ، اس کے شہریوں کے قتل اور ان کی جبری ہجرت کی کارروائیوں میں شریک رہی تھی۔

حرکت النجباء جو ایرانی مرشد علی خامنہ ای کو اپنا مذہبی ، نظریاتی اور سیاسی مرجع سمجھتی ہے.. اس کے سربراہ نے باور کرایا کہ "اگر ساری دنیا بھی ہمارے راستے میں کھڑی ہو جائے تو بھی ہم اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے"۔

الکعبی نے ان لوگوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو عراقی حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لڑائی کے لیے "شام جانے کو غیر قانونی قرارد دیا جائے"۔ الکعبی کے مطابق حلب میں شامیوں کے قتل اور جبری ہجرت کی کارروائیوں میں ان کی ملیشیا کی شرکت "مؤثر" رہی۔

اس سے قبل الکعبی نے حلب صوبے میں دو شیعہ اکثریتی قصبوں کفریا اور فوعا کے اہلیان کے نام اپنے خط میں انہیں فرقہ وارانہ تقسیم پر اکسانے اور ملک میں گھناؤنے فتنے کو بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔

ادھر عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے رواں ماہ کی بیس تاریخ کو پاپولر موبیلائزیشن کے تمام گروپوں سے جن میں حرکت النجباء بھی شامل ہے.. مطالبہ کیا تھا کہ وہ دیگر ممالک کے امور میں مداخلت نہ کریں۔ العبادی نے باور کرایا تھا کہ شام میں لڑنے والی کوئی بھی عراقی تنظیم یا جماعت ان کے ملک کی نمائندہ نہیں ہے۔

رواں ماہ کی 17 تاریخ کو حرکت النجباء کی ویب سائٹ نے تہران میں ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای اور تحریک کے سربراہ اکرم الکعبی کے درمیان ملاقات کی تصدیق کی تھی۔

یاد رہے کہ ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے دو روز قبل تمام غیر ملکی ملیشیاؤں کے شامی سرزمین سے کوچ کر جانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔