.

لیبیا: داعشی چنگل سے فرار123 بچے،عورتیں امداد کے منتظر

انسانی حقوق کے اداروں کا لیبی حکومت سےمحصورین کوتحفظ دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے’ہیومن رائٹس واچ‘ نے لیببیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مصراتۃ شہر سے فرار ہونے والے ایک سو بیس خواتین اور بچوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا معقول انتظام کرے کیونکہ داعش ان بچوں اور خواتین کے تعاقب میں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا ہے کہ سرت شہر سے 123 بچے اور عورتیں فرار ہو کر مصراتۃ پہنچنا چاہتے ہیں مگر داعش ان کے تعاقب میں ہے اور کسی بھی وقت انہیں یرغمال بنا سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر لیبیا کی حکومت اور اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ داعش کےجھنم سے فرار ہونے والے تمام افراد کو ہرممکن تحفظ فراہم کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش سےفرار ہونے والے شہریوں میں کئی زخمی ہیں۔ ان میں سے بعض کو گولیاں اور گولوں کے چھرے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ خوراک کی قلت کا بھی شکار ہیں۔

مصراتۃ کے قریب پناہ گزین شہریوں کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض افراد کے تنظیم کے ساتھ رابطے ہیں جب کہ کئی خواتین داعش کےجنگجوؤں کے ہاتھوں یرغمال بنانے کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد کا نشانہ بنائی جا چکی ہیں۔

مصراتۃ جیل کے ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کی تنظیم سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ مفرور شہریوں کو طبی امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم سرت سے فرار کے فوری بعد انہیں فیلد اسپتالوں میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جیل ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ سرت میں داعش سے فرار ہونے والے شہریوں میں تیونس، عراق، چاڈ، شام، اریٹریا اور نیجر کی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مصراتۃ شہر کی اسپتال انتظامیہ نے ان لوگوں کو طبی امداد فراہم کرنے سے اس لیے انکار کیا ہے کیونکہ ان کے داعش کے ساتھ رابطوں کی وجہ سے عوامی رد عمل میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس شہر کے 700 شہری خانہ جنگی کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مصراتۃ جیل میں 132 شہری قید ہیں جن میں 35خواتین اور 88 بچے ہیں جن میں سے بعض کی عمریں 15 سال سے کم ہیں۔