.

یہودی بستیوں کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد کا خیر مقدم

یہودی آباد کاری پرپابندیوں کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے:عرب لیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے سلامتی کونسل کی جانب سے جمعہ کے روز فلسطین میں غیر قانونی یہودی بستیوں کے قیام کا سلسلہ روکے جانے کے حوالے سے منظور کردہ قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی تاریخی قرارداد سے فلسطینی قوم کی آزادی کے لیے جدو جہد کو عالمی برادری کی جانب سے نیا تعاون اور مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل میں فلسطین میں یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد کی کثرت رائے سے منظوری سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ پوری عالمی برادری فلسطینیوں کو ان کے دیرینہ حقوق فراہم کرنے کے لیے ہم آواز ہے۔ یہ قرارداد آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنائے جانے کی جدو جہد کو آگے بڑھانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔

ابو الغیط نے کہا کہ وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ فلسطینی عرب شہروں میں یہودیوں کو آباد کرنے کا اسرائیلی حربہ غیرقانونی ہے۔ فلسطین میں حقائق کو تبدیل کرنے اور دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اسرائیلی پالیسی پر ایک بار پھر ضرب لگی ہے۔ اس قرارداد کے بعد اسرائیل کے پاس دو ریاستی حل کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔ فلسطین میں یہودی آباد کاری کے فروغ کے لیے اسرائیل نے جو بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔

عرب لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نے مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر عالمی سطح کے اہم ترین حل طلب مسائل میں شامل کردیا ہے۔ آنے والے عرصے میں اسرائیل کو اس قرارداد پرعمل درآمد کا پابند بنانے کے لیے رابطوں کو بڑھانا ہوگا تاکہ مسئلہ فلسطین کا دیر پا اور منصفانہ حل نکالا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال جنوری میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں فلسطین، اسرائیل امن بات چیت کی بحالی کے موضوع پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

عرب لیگ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں غیرقانی یہودی بستیوں کی تعمیرو توسیع کا سلسلہ بند کرے اور اس حوالے سے آج تک منظور کی جانےوالی تمام عالمی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے خطے میں قیام امن کی مساعی میں اپنا کردار ادا کرے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سلامت کونسل نے کثرت رائےسے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں اسرائیل سے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسئلہ فلسطین کے حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا تھا۔ امریکا نے قرارداد پر ہونےوالی رائے شماری میں حصہ نہیں لیا مگر اب کی بار واشنگٹن نے یہ قرارداد ویٹو بھی نہیں کی۔ امریکا نے پہلی بار 1979ء میں اسرائیلی توسیع پسندی کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کیا تھا۔