.

‘اھل بیت‘ ہر دور میں ظلم کا شکار رہے: بشارالجعفری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں شام کے مندوب بشارالجعفری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ‘فیس بک‘ پر پوسٹ ایک طویل تجزیاتی مطالعے کے خلاصے میں خود کو ’اھل بیت اطہار‘ میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اہل بیت ہر عہد میں ظلم کا شکار رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بشارالجعفری کا یہ بیان 22 دسمبر کو ان کے حامیوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر پوسٹ کیا۔

اپنے اس تجزیاتی مطالعے میں الجعفری استفار کے انداز میں لکھتے ہیں کہ ’کیا کوئی یقین کرسکتا ہے کہ ہمارے معاشرے سال ہا سال کی دہشت گردی سے پہلو تہی اختیار کرتے ہوئے خونی جاہلیت کے حامی چلے آرہے ہیں۔ کیا آج کے اختلافات کو محض سیاسی اختلافات قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ اہل بیت اطہار کی سودے بازی اور ان کے ظلم کی بدترین شکل ہے اور اہل بیت ہردور میں ظلم کا شکار رہے ہیں۔ ہر کہیں اسلام کے نام پر پرچم اٹھا کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

بشارالجعفری نے اپنے بیان میں حسب توفیق عرب ممالک کو بھی خوب تنقید اور غم وغصے کا نشانہ بنایا۔ اپنے بیان کو تقویت دینے کے لیے ابن خلدون جیسے مورخین کے بیان کردہ واقعات کا سہارا لیا اور عربی شاعری کی تلمیحات سے بیان کو مدلل بنانے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے لکھا کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے انقلاب کی تحریک قرار دینے والے جاہل ہیں۔

بشارالجعفری نے اپنے بیان میں وضو توڑنے والے پروپیگنڈے کی اصطلاح استعمال کی اور انسانی کھوپڑیوں کا تذکرہ کیا۔ اس کے بعد مگر مچھ کے آنسو، بندر کے آنسو، بچھو کے آنسو، سانپ کے آنسو اور شارک مچھلی کے آنسوں کی پانچ ضرب الامثال بیان کیں۔

انہوں نے لکھا کہ روس، ایران، وینز ویلا، اکواڈور، بولیویا، بیلا روس، بھارت اور جنوبی افریقا کو ایک ہی جیسے مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے۔