.

یمن : بڑے قبرستانوں سے حوثیوں کے جانی نقصان کا حجم واضح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ باغی حوثی ملیشیاؤں نے دارالحکومت صنعاء کے جنوب میں واقع صوبے ذمار میں ایک نئے قبرستان کا افتتاح کیا ہے جو رقبے کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق ذمار شہر کے شمال میں اس قبرستان کا رقبہ 2 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ حوثیوں نے گزشتہ دو روز کے دوران اپنے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کو دفن کیا جو نہم اور تعز کے اہم محاذوں پر ہلاک ہوئے۔

یمنی وزارت اوقاف میں ایک باخبر ذریعے نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اوقاف کے حوثی وزیر نے اپنی ترجیحات میں سب سے پہلے نئے قبرستان بالخصوص صنعاء میں ان کی تعمیر کے لیے مالی رقوم مختص کیں۔ اس مقصد کے واسطے دیگر منصوبوں کو روک دیا گیا ہے۔

ذریعے کے مطابق یہ اقدام دارالحکومت کے اکثر قبرستانوں میں ملیشیاؤں کے سیکڑوں ارکان کی لاشوں کو دفنانے کے سبب وہاں گنجائش ختم ہوجانے کے بعد کیا گیا ہے۔ یہ افراد تعز ، مارب ، نہم ، البیضاء اور شبوہ کے علاوہ سرحدی محاذ پر مارے گئے تھے۔

صنعاء صوبے کے ضلع بنی حشیش میں حوثیوں نے گزشتہ ماہ تین نئے قبرستانوں کا افتتاح کیا۔ اسی عرصے میں باغی ملیشیاؤں نے ہمدان ، بنی مطر اور صنعاء صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی قبرستانوں کا افتتاح کیا۔

اس سے قبل حوثیوں نے اکتوبر میں البیضاء صوبے کے شہر رداع میں حوثی رہ نما عبداللہ علی ادریس کے گھر کے پڑوس میں ایک بڑے قبرستان کا افتتاح کیا تھا۔

مئی میں بھی حوثی ملیشیاؤں نے صنعاء کے شمال میں واقع صوبے عمران میں ایک بڑا قبرستان تیار کروایا تھا۔ اب تک اس میں 700 سے زیادہ حوثیوں کو دفن کیا جا چکا ہے جس سے مختلف محاذوں پر حوثی جماعت کو ہونے والے بھاری جانی نقصان کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی صعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے حوثی ملیشیاؤں کے مارے جانے والے ارکان کی قبروں کی تصاویر جاری کی ہیں۔

رواں سال فروری میں حوثیوں کے زیر انتظام نام نہاد سپریم انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے دارالحکومت صنعاء مین نئے قبرستانوں کا افتتاح کیا۔ یہ پیش رفت شہر میں الجراف کے علاقے میں واقع ایک بڑے قبرستان کے حوثی جنگجوؤں کی میتوں سے بھر جانے کے بعد سامنے آئی۔ اس وقت باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ محمد علی الحوثی نے مقامی کونسل کو ہدایات جاری کی تھیں کہ دارالحکومت میں حوثیوں کے گڑھ الجراف میں واقع کھیل کے میدان کو نئے قبرستان میں بدل دیا جائے۔