.

معزول صالح "پیپلز کانگریس" کو خاندانی جماعت بنانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے اپنے بھتیجے بریگیڈیئر یحیی محمد عبداللہ صالح کو پیپلز کانگریس پارٹی کی جنرل کمیٹی کا رکن مقرر کرنے کے بعد پارٹی کی صفوں میں تقسیم کا رجحان نمایاں ہو گیا ہے۔ مبصرین کے نزدیک پیپلز کانگریس کے سربراہ علی عبداللہ صالح کا یہ فیصلہ اپنے بھتیجے کو سربراہ بنانے اور پارٹی کو ایک خاندانی جماعت میں تبدیل کرنے کی سمت پہلا قدم ہے۔

اگست 2012 میں مرکزی سکیورٹی فورسز کے چیف آف اسٹاف کے منصب سے برطرفی کے بعد سے بریگیڈیئر یحیی تقریبا مستقل طور پر لبنان کے دارالحکومت بیروت میں مقیم ہیں۔

حزب اللہ اور ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ قریبی تعلقات

باخبر ذرائع کے مطابق معزول علی صالح کے بھتیجے نے لبنانی تنظیم حزب اللہ اور مارچ 8 الائنس کی قیادت کے علاوہ ایرانی سفارت کاروں کے ساتھ بھی تعلقات استوار کر لیے جن سے اس نے لبنانی دارالحکومت میں کئی بار ملاقات کی۔

اس تناظر میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یحیی صالح کا پیپلز کانگریس کی اعلی ترین قیادتی کمیٹی کا رکن بننا درحقیقت معزول یمنی صدر کی جانب سے اپنے حلیف حوثیوں کے لیے اطمینان دلانے کا پیغام ہے جو یحیی کو معزول صالح کے کسی بھی اور عزیز کے مقابلے میں اپنے لیے زیادہ بہتر حلیف کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

یحیی صالح کی پیپلز کانگریس میں شمولیت کے بعد محض ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اسے جنرل کمیٹی کا رکن بنا دیا گیا۔ پارٹی قیادت کے نزدیک یہ تقرر 24 اگست 1982 میں پارٹی کی تاسیس کے بعد سے اس کے لازمی انتظامی ڈھانچے کے تمام تر اصول و ضوابط کی خلاف صریح خلاف ورزی ہے۔ پارٹی قیادت کا انتخاب پارٹی کی جنرل کانفرنسوں میں کیا جاتا ہے۔

صالح کا مخالف ونگ

سال 2011 کے واقعات کے سبب پیپلز کانگریس پارٹی کے اندر پھوٹ پڑ گئی تھی۔ اس دوران علی عبداللہ صالح کا ایک مخالف ونگ بھی نمایاں طور پر سامنے آیا تھا جس میں موجودہ صدر عبدربہ منصور ہادی اور ڈاکٹر عبدالکریم الاریانی پیش پیش تھے۔

اس کے بعد معزول صدر نے حوثی باغیوں کے ساتھ اتحاد کر لیا جو پارٹی کے اندر ایک اور بڑا دھچکا تھا۔ اس کے نتیجے مین کئی نمایاں رہ نما صالح مخالف ونگ میں شامل ہو گئے۔

بدترین استحصال

معزول صالح اور ان کے گرد موجود ٹولے کی جانب سے انفرادی فیصلوں کا سلسلہ جاری رہنے کے سبب رد عمل کے طور پر کانگریس کے ایک رہ نما محمد علا کی جانب سے پارٹی کی استثنائی جنرل کانفرنس کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا۔ محمد علا نے زور دیا کہ اس کانفرنس میں موجودہ یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی کے پارٹی سے رخصت ہوجانے کے بعد سے اب تک.. معزول صدر علی صالح اور ان کے گرد موجود محدود ٹولے کی جانب سے کیے گئے تمام تر پارٹی فیصلوں کو زیر بحث لایا جائے اور پارٹی کی نئی انتظامی قیادت منتخب کی جائے۔

دوسری جانب پیپلز کانگریس کے اہم میڈیا رہ نما كامل الخودانی جو حوثیوں کے ساتھ پارٹی کے اتحاد کی مخالفت کے سبب مشہور ہوئے.. انہوں نے فیس بک پر ایک تبصرے میں کہا کہ "افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کانگریس کی موجودہ قیات کو محض اپنے انفرادی مفادات اور اپنے اور اپنے عزیزوں کے واسطے خصوصی منفعتوں سے مطلب ہے۔ یہ قیادت پارٹی کو ان مفادات کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پارٹی کے اصول و ضوابط کا بدترین استحصال کر رہی ہے"۔