.

یمنی صدر حضرموت میں.. نہم میں عوامی مزاحمت کاروں کی پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی کا کہنا ہے کہ حضرموت کا صوبہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے لیے اب پُرکشش نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یہ بات اتوار کے روز یمن کے مشرق میں واقع صوبے حضرموت پہنچنے پر کہی۔

حضرموت میں مقامی حکام اور عسکری قیادت کے ساتھ صدر ہادی کے اجلاس میں سکیورٹی اور اقتصادی امور زیرِ بحث آئے۔

یمنی صدر نے باور کرایا کہ حضرموت کا صوبہ آج دہشت گردی کے اثرات سے آزاد ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغی ملیشیائیں اس صوبے میں داخل نہیں ہوئیں مگر حضرموت کو ایک دوسرے دشمن کی ضرب سے دوچار ہونا پڑا اور وہ دشمن تھا شدت پسند دہشت گرد جماعتیں جن سے بالآخر چھٹکارہ پا لیا گیا۔

دوسری جانب عوامی مزاحمت کاروں کے سرکاری ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ صنعاء کے شمال مشرق میں نہم کے محاذ پر شدید جھڑپوں کے دوران باغی ملیشیاؤں کے 24 ارکان ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے جب کہ 9 کو قیدی بنا لیا گیا۔

سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے عرب اتحادی طیاروں کی معاونت سے نئی پیش قدمی کی ہے۔

اس سے قبل سرکاری فوج نے جبلِ نہدین ، سد العقران اور اس کے نواح میں واقع پہاڑوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اس دوران ملیشیاؤں کی دو بکتربند گاڑیاں اور ایک توپ خانہ تباہ کر دیا گیا۔