.

اسرائیلی بستیوں سے متعلق قرار داد کے پیچھے ہم نہیں: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ سلامتی کونسل میں یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ٹرمپ انتظامیہ کے مواقف کے سبب مذکورہ قرارداد کا امریکا اسرائیل تعلقات پر دیرپا اثر نہیں ہو گا۔

اگرچہ عالمی برادری پر اس قرارداد کا اثر زیادہ بڑا ہوگا بالخصوص جب کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تنازع کے حل کے واسطے اپنا ویژن پیش کریں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے منگل کے روز بتایا کہ کیری دو ریاستی حل کے سلسلے میں موجودہ انتظامیہ کا موقف اور ان اقدامات کو پیش کریں گے جو مذکورہ حل تک پہنچنے کے لیے کیے جانے چاہیں۔ ٹونر اس امر کی تردید کی کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے۔

دوسری جانب Center for American Progress کے محقق برائن کیٹولس کا کہنا ہے کہ امریکا کا قرارداد 2334 پر رائے شماری میں حصہ نہ لینا دانش مندانہ موقف نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ " اس قرارداد کے نتیجے میں اسرائیل میں فلسطینیوں کے خلاف اور امریکا میں کانگریس اور نئی انتظامیہ میں ردعمل سامنے آئیں گے۔ اسی طرح یہ قرارداد دائیں بازو کی شدت پسند رُخ بندی کو مضبوط کرے گی۔ کسی بھی نوعیت کا مثبت اثر عارضی ہوگا اور آئندہ انتظامیہ کے آنے پر اس کے برعکس ہوگا"۔

فیصلے کے پیچھے مایوسی کا ہاتھ

امریکی ذمے داران نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر باراک اوباما کی اتنظامیہ کا یہ فیصلہ " امریکی انتظامیہ کے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو کی حکومت سے مایوس ہوجانے" کے سبب سامنے آیا۔ تاہم اوباما اس بات کے بھی خواہش مند ہو سکتے ہیں کہ بستیوں کی آباد کاری کے حوالے سے ایک تاریخی موقف اختیار کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ پہلے ہی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے مواقف کا اعلانیہ اظہار کر چکے ہیں.. وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور انہوں نے اسرائیل میں واشنگٹن کا ایسا سفیر مقرر کیا ہے جو بستیوں کی آباد کاری کا حامی ہے۔

اپنی نوعیت کے غیر مسبوق اقدام میں منتخب صدر نے حلف برداری سے قبل ہی پانچ روز تک ٹوئیٹس کے ذریعے رائے شماری میں مداخلت کر ڈالی۔ ٹرمپ نے مختلف ٹوئیٹس میں لکھا کہ " اقوام متحدہ میں بیس جنوری کے بعد صورت حال تبدیل ہو جائے گی.. اقوام متحدہ میں اسرائیل کا بڑا خسارہ درحقیقت امن کے واسطے مذاکرات کو دشوار بنا دے گا.. اقوام متحدہ روشن امکانات کا حامل ہے تاہم اس وقت یہ محض لوگوں کے ایک ساتھ جمع ہونے کا کلب ہے جہاں وہ بات چیت کے ذریعے اچھا وقت گزار لیتے ہیں۔ یہ ایک افسوس ناک بات ہے !"۔

فیس بک پر ٹرمپ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " اقوام متحدہ میں اسرائیل کے حوالے سے قرار داد کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کیا جانا چاہیے۔ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے عمل میں آنا چاہیے نہ کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد کر کے۔ یہ قرار داد مذاکرات کے حوالے سے اسرائیلی موقف کو کمزور بنا دے گی جو تمام اسرائیلیوں کے واسطے مطلقا غیر منصفانہ امر ہے"۔

"سرگرمی کے مرکز "کی منتقلی

محقق برائن کیٹولس کے مطابق ٹرمپ کا موقف اس خیال کو زائل کر دے گا کہ امریکا فریقین کے درمیان ایک ایمان دار ثالثی یا وساطت کار ہے اور یہ امر سرگرمی کے مرکز کو امریکا سے مشرق وسطی اور روس منتقل کر سکتا ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب کہ فرانسیسی حکومت 15 جنوری کو یعنی نئی امریکی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے سے پانچ روز قبل.. مشرق وسطی میں امن کے حوالے سے ایک کانفرنس کی میزبانی کی تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیل کو اندیشہ ہے کہ اس موقع پر درجنوں ممالک فریقین کے درمیان امن کے بین الاقوامی ویژن کو قبول کر لیں گے۔

اس کے علاوہ جان کیری کا متوقع خطاب جلتی پر تیل کا کام کر سکتا ہے جس میں وہ مسئلہ فلسطین کے ایک جامع حل کے واسطے موجودہ انتظامیہ کے تصور کی تفصیل بیان کریں گے۔ اس خطاب کے بین الاقوامی سطح پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے امریکا میں اسرائیل کے حامیوں کو گہری تشویش لاحق ہے۔
فلسطینیوں کے مفاد میں

‫اقوام متحدہ میں امریکا کے سابق سفیر جان بولٹن نے "وال اسٹریٹ جرنل" اخبار میں تحریر کیے گئے کالم میں کہا ہے کہ "نئی امریکی انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ مذکورہ قرارداد کو منسوخ کرانے کی کوشش کرے۔ جو ممالک اس سے انکار کریں ان کی سرزنش کرے اور اقوام متحدہ کے لیے اپنی تھوڑی امداد کو معطل کر دے"۔

سلامتی کونسل کی قرار داد کے منظور کیے جانے کے بعد ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے مذمتی بیانات سامنے آئے۔ یہ افراد بستیوں کی آبادی کاری کے تو مخالف ہیں تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے تعاقب کے واسطے سلامتی کونسل کوئی مؤثر پلیٹ فارم نہیں ہے۔


پہلی قرار داد نہیں

امریکی تنظیم Americans for Peace Now میں پالیسی اور حکومتی تعلقات کی ڈائریکٹر لارا فریڈمین کے مطابق "گزشتہ سات برسوں کے دوران صدر اوباما نے سلامتی کونسل میں اسرائیل پر تنقید کرنے والی کوئی بھی قرار داد منظور نہیں ہونے دی۔ تاہم 1967 سے اب تک کا ریکارڈ کھنگالا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ تمام امریکی صدور نے سلامتی کونسل میں ایسی قرار دادوں پر رائے شماری کرنے دی یا خود ان قرار داد کے لیے ووٹ دیا جن میں فلسطینیوں یا عربوں سے متعلق اسرائیلی پالیسی کے حوالے سے انگلی اٹھائی گئی تھی"۔ فریڈمین نے جارج بش جونیئر کے دور کی چھ قرار دادوں کا حوالہ دیا جن میں 2004 کی قرار داد کو اسرائیل نے غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔

قرار داد میں غزہ پٹی میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے گھروں کو گرائے جانے کی مذمت کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ 2002 کے اواخر میں پیش کی جانے والی قرارداد جس میں فائر بندی ، بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے اور دوسری انتفاضہ کے بعد اسرائیل کی جانب سے پھر سے قبضے میں لیے جانے والے شہروں سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسرائیل نے مذکورہ قرارداد کی سخت مخالفت کی تھی۔