.

ایک فلم جسے دیکھنا شامی پولیس کے لیے لازم ٹھہرا!

فلم’رد القضاء‘ کے پروڈیوسر نجدت انزوربشارالاسد کے مقرب فن کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کی قائم کردہ پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر اور ملک کے معروف پروڈیوسرو فن کار نجدت انزور نے انکشاف کیا ہے ان کی تیار کردہ ایک فلم ’رد القضاء‘ کو پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو دکھانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نجدت انزور نے شام سے شائع ہونے والے بشار الاسد کے مقرب اخبار ’الوطن‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’رد القضاء‘ فلم کو دیکھنا پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداورں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ میری [نجدت انزور] کی تیار کردہ فلم ’رد القضاء‘ کو ایک بار ضرور دیکھیں۔

خیال رہے کہ نجدت انزور کا شمار شام میں صدر بشار الاسد کے انتہائی مقرب اور سخت گیر لوگوں میں ہوتا ہے۔ شام میں عوام کے خلاف بشارالاسد کی ظالمانہ پالیسی اور شہریوں کے قتل عام کا دفاع کرنے والوں میں نجدت انزور پیش پیش رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد بار شامی فن کاروں اور ملک چھوڑ کر جانے والی شخصیات کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے ھجرت کرنے والے فن کاروں کو دھمکی دی تھی کہ ملک واپس لوٹنے کے بعد فلم انڈسٹری میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوگا اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کیا جائے گا۔

نجدت انزور نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا جہاں انہیں بہترین فلم ساز کے اعتراف میں ایک ایوارڈ بھی جاری کیا گیا۔ تہران میں انہوں نے شام میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تکریم میں منعقدہ تقریبات میں بھی شرکت کی تھی۔