.

یمن : نہم میں حوثی اور صالح ملیشیاؤں کے 17 جنجگو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اتحادی افواج نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ضبوہ کے عسکری کیمپ کو شدید بم باری کا نشانہ بنایا جب کہ سنحان ضلعے میں عمد جربان گاؤں پر بھی حملے کیے گئے جو معزول صدر صالح کی فورس کا گڑھ ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق فضائی حملوں میں صنعاء کے جنوب میں واقع ضلع سنحان پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی گئی جہاں باغیوں کے اسلحہ ڈپو اور تربیتی کیمپ موجود ہیں۔

زمینی پیش رفت میں صنعاء صوبے کے ضلع نہم میں سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ساتھ گھمسان کی لڑائی میں حوثی اور صالح ملیشیاؤں کے 17 جنگجو مارے گئے۔

صنعاء میں عوامی مزاحمت کاروں کے سرکاری ترجمان عبداللہ الشندقی نے بتایا کہ سرکاری فوج نے اتحادی طیاروں کی معاونت سے "کیال الرباح" کے علاقے کو آزاد کرا لیا۔ معرکے میں باغی ملیشیاؤں کے درجنوں ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے جب کہ سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے 2 ارکان جاں بحق اور 5 زخمی ہو گئے۔

الشندقی کے مطابق اتحادی طیاروں نے نقیل بن غیلان کے نزدیک ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر بم باری کی اور 3 عسکری گاڑیوں کو تباہ کر ڈالا۔ اس کے نتیجے میں گاڑیوں میں سوار افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ سرکاری فوج نے اتحادی طیاروں کی فضائی معاونت کے ساتھ شبوہ صوبے میں نئے ٹھکانوں کو کنٹرول میں لے لیا۔ اس دوران حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کو بھاری جانی اور مادی نقصان اٹھانا پڑا۔ سرکاری فوج نے عسیلان کے ضلع میں باغیوں کے ساتھ شدید مقابلے کے بعد دو تزویراتی مقامات العلم اور السلیم کو آزاد کرا لیا۔