.

شامی اپوزیشن کے 13 گروپوں کو مذاکرات میں شامل کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ترکی، روس اور ایران کے اشتراک سے طے پائے جانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اب دنیا بھر کی نظریں قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں۔ ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ آستانہ مذاکرات میں شامی اپوزیشن کے 13 دھڑوں کوشریک کیا جائے گا۔

العربیہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق شام میں بشار الاسد کے ساتھ جنگ بندی پر متفق ہونے والے 13 اپوزیشن گروپوں کو 16 جنوری 2017ء کو ہونے والے مذاکرات میں شریک کیا جائے گا۔

ادھر شامی اپوزیشن کے ایک درجن گروپوں کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی تصدیق کی گئی ہے کہ آستانہ میں ہونے والے امن مذاکرات میں ان کا ایک نمائندہ گروپ شرکت کرے گا۔

قبل ازیں شامی اپوزیشن کے نیشنل الائنس اور سپریم مذاکراتی کونسل نے تمام اعتدال پسند انقلابی قوتوں کو مذاکرات میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

شامی اپوزیشن نے فائربندی کے معاہدے کو مثبت پیش رفت قرار دینے کے ساتھ ساتھ خبردار کیا تھا کہ ایران اور اس کی حامی ملیشیا شام میں سیز فائر معاہدے کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

شامی نیشنل الائنس کے سربراہ انس العبدہ اور سپریم مذاکراتی کونسل کےچیئرمین ریاض حجاب نے ترکی میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے ان کےموقف میں کوئی تضاد نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ قزاقستان میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں مگر ان مذاکرات کا جنیوا مذکرات کا متبادل نہیں ہونا چاہیے۔