.

وزارتوں سے سبکدوشی کے بعد سعودی وزراء کیا کرتے ہیں؟ جانئے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وزارتوں کے قلم دانوں میں متعدد رد و بدل دیکھنے میں آ چکا ہے۔ اس دوران کئی شخصیات کا تقرر اور بہت سوں کی سبک دوشی عمل میں آئی۔ جنوری 2015 میں شاہ سلمان کے ہاتھوں شروع ہونے والی اس وزارتی تبدیلیوں کے نتیجے میں مملکت کے ان وزراء کی مدت بھی اختتام کو پہنچی جنہوں نے کئی فرماں رواؤں کے دور میں خدمات انجام دیں۔

سعودی کابینہ جو 20 وزراء کے علاوہ وزراء مملکت پر مشتمل ہوتی ہے ، مملکت میں حکومت کی سپریم اتھارٹی شمار کی جاتی ہے۔ اس کی سربراہی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے دو نائبوں بعنی ولی عہد اور نائب ولی عہد کے پاس ہے۔

وزراء کا تقرر ، ان کی سبک دوشی یا ان کے استعفوں کی منظوری صرف شاہی فرمان کے ذریعے عمل میں آتی ہے.. جب کہ وزراء کے انتخاب میں تین انتظامی اداروں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ ان میں کابینہ کی پریذیڈنسی کا دفتر ، کابینہ کا جنرل سکریٹریٹ اور کابینہ کے ماہرین کا بیورو شامل ہے۔

سال 2016 کے دوران وزارتی سطح پر تقرر اور سبک دوشی کی کئی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ سب سے زیادہ تبدیلیاں وزارت صحت میں ہوئیں جہاں جنوری 2015 کے بعد سے یکے بد دیگرے تین وزراء نے قلم دان سنبھالا.. جب کہ اس حوالے سے وزارت مالیات پچھلے ماہ نومبر تک سب سے زیادہ مستحکم رہا۔

اس دوران 5 وزارتوں کے نام تبدیل کیے گئے جن میں زراعت ، تجارت ، پٹرول ، اسلامی امور اور حج کی وزارت شامل ہیں۔ وزارت محنت اور سماجی امور کو ضم کر کے ایک وزارت بنا دیا گیا جب کہ تعلیم اور اعلی تعلیم کی وزارتوں کو بھی ایک وزارت میں ضم کر دیا گیا۔

سبک دوش کیے جانے والے وزراء کا نصیب

جن کو وزراء کو ان کے منصبوں سے سبک دوش کیا گیا ان میں اکثریت اب بھی مملکت میں سرکاری ، بین الاقوامی یا اکیڈمک اداروں میں ذمے داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔

سابق وزیر انصاف ڈاکٹر محمد العيسى نے رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالا ہوا ہے۔ سابق وزیر پٹرول انجینئر علی النعیمی کنگ عبداللہ یونی ورسٹی فار سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ سابق وزیر صحت ڈاکٹر محمد آل هيازع ریاض میں الفیصل یونی ورسٹی کے سربراہ کا منصب سنبھالے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر تعلیم ڈاکٹر عزام الدخیل سعودی ریسرچ اینڈ مارکیٹنگ گروپ کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز ہیں۔ حج اور عمرے کے سابق وزیر ڈاکٹر بندر حجار اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے سربراہ بن گئے ہیں۔

مملکت میں سبک دوش کر دیے جانے والے متعدد وزراء منتقل ہو کر مملکت کے مشیر ، وزیر یا سفیر بن گئے۔ سابق وزیر مالیات ڈاکٹر ابراہیم العساف اس وقت وزیر مملکت کے منصب پر فائز ہیں۔ ثقافت اور اطلاعات کے سابق وزیر ڈاکٹر عبدالعزیز خوجہ اس وقت مراکش میں سعودی سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ سابق وزیر صحت احمد الخطیب مملکت میں جنرل اتھارٹی فار اینٹرٹینمنٹ کے سربراہ کی ذمے داری انجام دے رہے ہیں۔

جہاں تک سابق وزیر زراعت انجینئر ولید الخریجی کا تعلق ہے تو ان کو مجلس شوری کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے۔ اسلامی امور کے سابق وزیر ڈاکٹر سلیمان ابا الخیل اس وقت امام محمد بن سعود اسلامک یونی ورسٹی کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ معیشت اور منصوبہ بندی کے سابق وزیر ڈاکٹر محمد الجاسر کابینہ کے جنرل سکریٹریٹ میں مشیر کے منصب پر فائز ہیں اور ان کو وزیر کا رتبہ حاصل ہے۔