.

شام میں فائر بندی پر ایرانی میڈیا کا کردار ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب کہ گزشتہ گھنٹوں کے دوران علاقائی اور عالمی ذرائع ابلاغ شام میں فائر بندی کی خبر نشر کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوششیں کر رہے تھے ، ایران میں سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا نے اپنی توجہ مقامی خبروں پر مرکوز رکھی اور شام میں فائربندی اور اس حوالے سے وزیر خارجہ جواد ظریف کی جانب سے سرسری طور خیرمقدم کی مختصر سی خبر پر اکتفا کیا۔

ایرانی امور کے تجزیہ کاروں کے نزدیک شام میں ایران کے بھاری جانی اور مالی نقصان کے باوجود فائر بندی کے معاہدے میں تہران کا کردار کھوکھلا رہا.. اور روس نے یہ ثابت کر دیا کہ شامی حکومت کے فیصلے میں حتمی موقف ماسکو کا ہوتا ہے۔ ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے عسکری مشیر یحیی صفوی نے شام میں روس کے بڑھتے ہوئے اسی کردار سے خبردار کیا تھا۔

ایرانی ذمے داروں کے خیال میں کرملن شام میں تہران کے کردار کو کمزور کرنے پر کام کر رہا ہے اور انہیں اندیشہ ہے کہ ماسکو شام میں ایران کے بھاری جانی اور مالی نقصان پر مزید فوائد حاصل کرے گا کیوں کہ اس نے سارے پَتّے اپنی گرفت میں رکھے ہوئے ہیں۔

"روسی - ترکی معاہدے "کی عبارت سے گریز

ادھر ایرانی سکیورٹی فورسز اور پاسداران انقلاب سے قریب شمار کی جانے والی خبروں کی دو ایجنسیوں "فارس نيوز" اور"تسنيم" نے اس حوالے سے "روسی - ترکی معاہدے" کی عبارت سے گریز کرتے ہوئے صرف "شام میں فائر بندی" کے جملے پر اکتفا کیا اور اس سلسلے میں ماسکو اور انقرہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانی میڈیا اس معاملے میں ایران کے کھوکھلے کردار سے کتنی جھنجلاہٹ کا شکار ہے۔

دوسری جانب شام میں اعلانیہ فائر بندی کے حوالے سے ابھی تک ایرانی مرشد اعلی ، پاسداران انقلاب کی قیادت یا صدر حسن روحانی کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ صرف وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک ٹوئیٹ میں مذکورہ معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم انہوں نے اس سلسلے میں اپنے ملک کے کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

ایرانی مرشد علی خامنہ ای کے قریب شمار کی جانے والی نیوز ایجنسی "تسنیم" کے مطابق شام میں فائربندی کا معاہدہ نافذ العمل ہونے سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف نے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا تاہم اس رابطے اور اس کے نتائج سے متعلق کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔