.

ایرانی سبز تحریک کے رہ نما شامی انقلاب کے سبب نظر بند ہوئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس معاون کے مطابق اُس وقت سبز تحریک کے ایک رکن نے جیل میں رہتے ہوئے شام میں گرفتار کیے جانے والوں کے نام ایک خط تحریر کیا جس میں ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔ ادھر سبز تحریک کے رہ نماؤں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ شام میں قید افراد کے ساتھ یک جہتی کے واسطے سڑکوں پر نکلیں۔

حسین نجات کا کہنا ہے کہ اس دعوت کے نتیجے میں ایران میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل نے 14 فروری 2011 کو سبز تحریک کے دونوں رہ نماؤں پر نظربندی مسلط کرنے کا مطالبہ کر ڈالا.. اس دوران ان شخصیات کو گھر میں خصوصی معالج ، ورزش اور تیراکی وغیرہ کی سہولیات حاصل ہوں گی مگر وہ کسی سے رابطہ نہیں کرسکتے تاکہ کوئی "فتنہ" نہ پیدا کرسکیں۔

یاد رہے کہ نجات اس سے قبل پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل کے معاون برائے ثقافتی و سماجی امور کے منصب پر بھی کام کر چکے ہیں۔

اس انٹیلی جنس ذمے دار کا احتجاجی تحریکوں کے خلاف خونی کریک ڈاؤں میں نمایاں کردار رہا ہے جن مین 1998 میں تہران میں طلبہ کی مزاحمتی تحریک اور 2009 میں سبز تحریک کے احتجاجی مظاہرے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نجات نے ایران میں اصلاح پسند ، اعتدال پسند ، بائیں بازو اور حقوق نسواں سے متعلق گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے ان عناصر کو ایرانی نظام کا دشمن قرار دیا۔