.

"اَبها" کو عرب سیاحت کے دارالحکومت کا اعزاز کیوں حاصل ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کی سیاحت سے متعلق تنظیم کے ماہرین نے سعودی عرب کے شہر اَبہا کو سال 2017 کے لیے عرب سیاحت کا دارالحکومت قرار دیا ہے۔ عرب ٹورزم آرگنائزیشن کے سربراہ ڈاکٹر بندر آل فہيد کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے متعدد عوامل کار فرما رہے جن میں ابہا کی قدرتی آب و ہوا ، تاریخی مقام ، ثقافتی اور سماجی ورثہ ، منفرد زراعتی ماحول اور خصوصی میلے شامل ہیں۔

قدرتی عناصر

ابہا شہر اور اس کے نواحی صحت افزا اور تفریحی مقامات کو اپنے مبہوت کر دینے والے قدرتی عناصر کی وجہ سے امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ ان عناصر میں السودہ ، دلغان اور الحبلہ کے علاقوں میں جنگلات کی خوب صورتی اور سر بہ فلک پہاڑی علاقے شامل ہیں جن میں اہم ترین السودہ کا علاقہ ہے جو مملکت میں بلند ترین مقام ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کی آب و ہوا اور موسم مملکت میں سب سے زیادہ خوب صورت رہتا ہے جو موسم گرما میں معتدل اور موسم سرما میں نسبتا سرد ہوتا ہے۔ اَبہا اپنے محلِ وقوع کے سبب تزویراتی علاقے کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ اہم تجارتی راستوں کے لیے گزرگاہ بھی ہے۔

ماحولیاتی سیاحت

مملکت کا 70 % سبزہ ابہا میں پایا جاتا ہے۔ یہاں کا ماحول انتہائی صاف اور آلودگی سے پاک اور محفوظ ہے۔ یہاں پر موجود دُھند تہامہ کی وادیوں سے بلند ہو کر پہاڑوں کے بالائی حصوں تک چھائی رہتی ہے۔ یہاں جھیل اور نہروں کے علاوہ متعدد اقسام کے درخت اور پودے بھی پائے جاتے ہیں۔

بھرپور ثقافتی ورثہ

ابہا شہر بھرپور اور زرخیز ثقافتی ورثے کا بھی حامل ہے۔ ان میں منگل بازار ، فن اور جمال کا منبع المفتاحہ گاؤں اور شہر کا ایک علاقہ "مُقابل" جس کو عثمانی دور میں صوبائی صدر مقام کا درجہ حاصل تھا شامل ہے۔ ان کے علاوہ تاریخی حیثیت کے حامل پہاڑی مقامات بھی ہیں جہاں اب چیئر لفٹ کے ذریعے پہنچا جاتا ہے۔

میلوں کا انعقاد

سیاحتی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ میلوں کے مفہوم کو واضح کرنے کے حوالے سے ابہا شہر کو سبقت اور برتری حاصل ہے جس نے عرب دنیا کی نظروں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ اس سلسلے میں مختلف مواقع پر منعقدہ پروگراموں میں فن ، کھیل اور ثقافت کی دنیا کے ستاروں کی میزبانی کا اعزاز حاصل کیا گیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔