.

حوثیوں کی یمنیوں کے موبائل سے یہ "ویڈیو" مٹانے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک یمنی ڈرامے کے منظر کا وڈیو کلپ ناظرین کی پسندیدگی حاصل کر رہا ہے۔ منظر میں معروف اداکار علی الحجوری نے ایک بینک ملازم کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ اہل کار بینک میں موجود یمنی شہریوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ جن لوگوں کے لیے ایران سے ترسیلِ زر کی رقوم آئی ہیں وہ ایک جانب ہو جائیں جس پر کوئی صف میں نہیں آیا۔ اس کے بعد اہل کار نے کہا کہ "جن کی رقوم سعودی عرب سے آئی ہیں وہ اس طرف آ جائیں"۔ یہ سننا تھا کہ صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی اور تمام کے تمام لوگ کاؤنٹر کی کھڑکی پر ٹوٹ پڑے۔ اس پر مشہور اداکار نے وہاں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " یہ ہے وہ سعودی عرب جس کو تم لوگ دشمن قرار دیتے ہو۔ کئی دہائیوں سے جو ہماری مدد کر رہا ہے اور ہمارے عوام کے لیے اسکول ، کالج اور ہسپتال کھولتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ مصائب اور آفات کے موقع پر ہمارے شانہ بشانہ نہ کھڑا ہوا ہو۔ مشکل گھڑی میں ہمیشہ سعودی عرب سب سے پہلے ہمیں سپورٹ کرنے کے لیے آیا"۔

سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں نے ڈرامے کے اس منظر کو انتہائی اثر انگیز قرار دیا جس نے "حوثیوں کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں اور حقیقی صورت حال کی عکاسی کی۔ سعودی عرب نے ہمیشہ یمنی حکومت اور عوام کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھایا اور مملکت میں مقیم یمنی شہریوں کے واسطے نظام سے ہٹ کر سہولیات فراہم کیں"۔ ان اقدامات کا مقصد یمنیوں کی حالت بہتر بنانا ہے تاکہ وہ روزگار کے ذریعے یمن میں اپنے اہل خانہ کے اخراجات برداشت کر سکیں۔

یاد رہے کہ علی الحجوری کا شمار یمن کے صفِ اوّل کے اداکاروں میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے وطن دوست مواقف کی وجہ سے مشہور ہیں۔ وہ یمن میں اپنے ایک کردار "جعفر" کے نام سے معروف ہیں جو انہوں نے ایک مشہور ڈرامہ سیریل "همّی همّک" میں ادا کیا تھا۔

یمنی ڈرامے کے مذکورہ منظر کے زیر گردش آنے سے حوثیوں کو سخت تشویش لاحق ہے۔ اسی واسطے جس یمنی کے موبائل میں یہ وڈیو کلپ پایا جاتا ہے اس کو حوثیوں کی جانب سے سخت سزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔