.

داعش کے خلاف جنگ کا جائزہ لینے فرانسیسی صدر کی عراق آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے صدر فرانسو اولاند پیر کے روز عراقی دارلحکومت بغداد پہنچے ہیں جہاں وہ عراق میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں مدد کرنے والی فرانسیسی فوج کے اہلکاروں سے ملاقاتوں کے علاوہ سرکردہ عراقی حکام سے مذاکرات بھی کریں گے۔

فرانسیسی صدر 2014 میں بھی عراق کا دورہ کر چکے ہیں۔ ڈھائی برس قبل امریکی قیادت میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کے اجراء کے بعد فرانسو اولاند عراق کا دورہ کرنے والے نمایاں رہنما رہے ہیں۔

فرانس کے وزیر دفاع ژاں ایو لے دریاں بھی فرانسیسی صدر کے ہمراہ عراق گئے ہیں۔ اپنے ایک روزہ دورے کے دوران فرانسیسی حکام نیم خود مختار صوبے کردستان بھی جائیں گے۔ فرانس، امریکی قیادت میں شام اور عراق میں سرگرم داعش کے خلاف فضائی حملے کرنے والے اتحاد میں تعاون کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ فرانس فوجی کارروائیوں کے علاوہ عراقی فوج کو عسکری ساز وسامان، تربیت اور مشاورت بھی فراہم کرتا ہے۔

عراقی فورسز جون 2014 میں سنی شہر موصل پر داعش کے مکمل کنڑول کے بعد بری طرح پسپا ہوئیں۔ داعش کے انتہا پسندوں نے اگست 2014 میں مزید علاقے کا کنڑول حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد ہزاروں علاقہ مکینوں نے جبری نقل مکانی کی۔ داعش کے زیر نگین جانے سے قبل ان علاقوں پر کرد پش مرگہ فورسز کا کنڑول تھا۔

وزارت دفاع کے اعداد وشمار کے مطابق ستمبر 2014 سے امریکی اتحاد میں شمولیت کے بعد فرانسیسی جیٹ طیاروں نے عراق کے مختلف علاقوں میں 5700 پروازیں اور تقریبا ایک ہزار حملے کئے جن میں 1700 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

فرانس کے چودہ رافیل طرز کے جدید لڑاکا طیارے اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں جہاں سے وہ عراق میں جاری فوجی آپریشنز میں مدد کے لئے پرواز کرتے ہیں۔

پانچ سو فرانسیسی فوجی عراق کی ایلیٹ فورس کو تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ نیز موصل کو داعش کے کنڑول سے آزاد کرانے کے لئے جاری آپریشن میں مدد فراہمی کے لئے فرانس کی تیارکردہ CEASAR طرز کی توپ گاڑیاں موصل کے جنوب میں موجود ہیں۔

آسٹریلیا، اٹلی اور برطانیہ بھی اس ساٹھ ملکی اتحاد میں شامل ہیں جو داعش کے خلاف عراقی اقدامات میں تعاون فراہم کر رہے ہیں۔