.

عراقی فوج کا موصل کے 60 فی صد حصے پر کنٹرول

عراقی فورسز کےزیر کنٹرول علاقوں کا نقشہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے شمالی شہر موصل کو دہشت گرد گروپ ’داعش‘ سے چھڑانے کے لیے جاری دوسرے مرحلے کے آپریشن میں مزید پیش قدمی کرتے ہوئے اہم مقامات پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی میڈیا وار سیل کی طرف سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے جنوب مشرقی موصل میں تازہ لڑائی کے دوران الکرامہ کالونی کو داعش سے آزاد کروا لیا ہے۔ فوج نے داعش کے زیرقبضہ المثنیٰ کالونی پر بھی یلغار کی ہے جب کہ مشرقی موصل کی النور کالونی پر بھی دو اطراف سے حملےکی تیاری کی جا رہی ہے۔

ادھر عراقی فوج کے ایک عہدیدار نے اتوار کو بتایا کہ فوج نے موصل شہر کا 60 فی صد علاقہ شدت پسندوں سے واپس لے لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موصل شہر کے مشرقی حصے کے بیشترعلاقے اب عراقی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔

عراقی فوج میں شعبہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ جنرل عبدالوھاب الساعدی نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ مشرقی موصل کا 60 فی صد علاقہ داعش کے قبضے سے چھڑا لیا ہے۔

جنرل الساعدی نے شمال مشرقی موصل میں قائم اپنے دفتر میں میڈیا کو داعش سے چھڑائے گئے علاقوں کے نقشے کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ خیال رہے کہ اس علاقے کو داعش نے سنہ2014ء میں عراق میں اپنی خلافت کا دارالحکومت قرار دے رکھا تھا۔

خیال رہے کہ عراقی فوج میں شعبہ انسداد دہشت گردی دوسرے سیکیورٹی اداروں کی نسبت زیادہ فعال، تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہے مگر 17 اکتوبر 2016ء سے موصل میں داعش کے خلاف وزیراعظم حیدر العبادی کے اعلان کردہ آپریشن میں انسداد دہشت گردی فورسز کو بھی سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔

موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے، جہاں داعش کے خلاف جاری آپریشن کے دوران ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

عراقی فوج اور انسداد دہشت گردی کے لیے قائم کردہ ایلیٹ فورس کے اہلکار ایک ایک گھر کا صفایا کررہے ہیں مگر داعشی جنگجوؤں کےگھات لگا کر حملوں، خود کش دھماکوں اور جگہ جگہ نصب بموں کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔